غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری، مزید 80 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
غزہ کے اسپتالوں میں موجود طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز اور ڈرونز نے غزہ میں منگل کی صبح سے اب تک کم از کم 86 فلسطینیوں کو شہید کر دیا، جن میں 56 بے گھر افراد تھے، جو امداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری ہیں، تازہ حملوں میں مزید 80 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق منگل کو غزہ میں اسرائیلی فوج نے امداد کے لیے جمع لوگوں پر فائرنگ اور گولہ باری کی جبکہ بے گھر فلسطینیوں پر بم گرائے۔ غزہ کے اسپتالوں میں موجود طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز اور ڈرونز نے غزہ میں منگل کی صبح سے اب تک کم از کم 86 فلسطینیوں کو شہید کر دیا، جن میں 56 بے گھر افراد تھے، جو امداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وادی غزہ کے جنوب میں کم از کم 25 افراد شہید جبکہ 140 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں 62 کی حالت تشویشناک ہے۔
دوسری جانب خان یونس میں فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے حملے میں 3 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے۔ ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج کی آرمڈ گاڑی پر حملے سے آگ بھڑک اٹھی، اسرائیلی فوج مدد کیلئے ہیلی کاپٹر بلانے پر مجبور ہوگئے۔ ادھر قطر نے غزہ جنگ بندی مذاکرات آئندہ 2 روز میں دوبارہ شروع ہونے کی امید ظاہر کر دی ہے جبکہ حماس نے اسرائیلی جارحیت کے مکمل خاتمے کی پیش کش پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک