میانمار: زلزلے کے تین ماہ بعد بھی 60 لاکھ افراد امداد کے منتظر
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 25 جون 2025ء) میانمار میں آنے والے شدید زلزلے سے تین ماہ بعد بھی ملک میں 60 لاکھ لوگوں کو امداد کی اشد ضرورت ہے جبکہ اس آفت نے کئی سال سے جاری مسلح تنازع سے پیدا ہونے والے انسانی بحران کو مزید شدید بنا دیا ہے۔
28 مارچ کو آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے نے ملک کے وسطی علاقوں میں تباہی پھیلا دی تھی جس میں کم از کم 3,800 افراد ہلاک اور 5,000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
زلزلے کے نتیجے میں منڈلے، ساگینگ اور میگوے جیسے بڑے شہروں میں عمارتیں تباہ ہونے سے ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے جبکہ 2021 میں ملک پر فوجی حکومت قائم ہونے کے بعد 32 لاکھ لوگ پہلے ہی بے گھر تھے۔ Tweet URLامدادی منصوبوں پر عملدرآمد سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر (یو این او پی ایس) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جورگ موریرا ڈا سلوا نے کہا ہے کہ لوگ تاحال اس زلزلے کے اثرات سے نہیں نکل سکے۔
(جاری ہے)
اس آفت سے ہونے والی تباہی نے خانہ جنگی، نقل مکانی اور شدید امدادی ضروریات جیسے مسائل کو دوچند کر دیا ہے۔امدادی وسائل کی ضرورتانہوں نے بتایا ہے کہ زلزلے کے فوری بعد ادارے نے امدادی مقاصد کے لیے 25 ملین ڈالر کا انتظام کیا اور پانچ لاکھ لوگوں کو ضروری مدد فراہم کی گئی۔ اس ضمن میں لوگوں کو ہنگامی پناہ کا سامان اور پینے کا صاف پانی مہیا کیا گیا اور ضروریات کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی ماہرین کو تعینات کیا گیا۔
تاہم، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر ضروریات پوری کرنے کے لیے عالمی برادری کی جانب سے مزید مدد درکار ہے۔ عالمی بینک کے مطابق زلزلے سے میانمار میں مجموعی طور پر 11 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے جبکہ تعمیرنو پر اس سے دو تا تین گنا زیادہ اخراجات آئیں گے۔ بحالی کے اقدامات شروع کرنے سے قبل 25 ملین ٹن ملبے کو صاف کرنا بھی ضروری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تعمیرنو کے عمل میں لوگوں کو مرکزی اہمیت ملنی چاہیے اور اسے مشمولہ ہونے کے علاوہ قیام امن کی کوششوں سے بھی منسلک ہونا چاہیے۔
خواتین کے لیے بڑھتے خطراتمیانمار میں زلزلے نے خواتین اور لڑکیوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ ہلاک و زخمی ہونے والوں میں بڑی تعداد انہی کی ہے اور اب انہیں تحفظ کے بڑھتے ہوئے مسائل بھی درپیش ہیں۔
جنسی و تولیدی صحت کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایف پی اے) نے کہا ہے کہ تولیدی عمر کی 46 لاکھ خواتین کی صحت کو شدید خطرات درپیش ہیں جن میں 220,000 حاملہ خواتین بھی شامل ہیں۔طبی مراکز ہونے والے نقصان، مون سون کے سیلاب اور عدم تحفظ کے نتیجے میں حمل و زچگی سے متعلق ہنگامی خدمات اور ایام حیض میں صحت و صفائی کی سہولیات تک رسائی میں خلل آیا ہے۔
گنجان اور کم روشنی والی پناہ گاہوں میں صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔طبی نظام پر دباؤزلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ہیضہ، ڈینگی اور ملیریا پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، 31 مئی تک کسی بیماری کی بڑی وبا نہیں پھیلی لیکن پانی سے پھیلنے والے اسہال اور جلدی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مون سون کی بارشوں نے عارضی پناہ گاہوں میں رہن سہن کے حالات کو اور بھی مشکل بنا دیا ہے۔ ذہنی صحت کی صورتحال بھی نازک ہے اور ایک جائزے میں 67 فیصد لوگوں نے بتایا کہ انہیں زلزلے اور ملک میں جاری خانہ جنگی کے باعث ذہنی دباؤ کا سامنا ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' اور اس کے شراکت داروں نے تشنج اور کتوں کے کاٹنے سے لاحق ہونے والی بیماری ریبیز سے تحفظ کے لیے 300,000 لوگوں کو ویکسین فراہم کی ہے لیکن رسائی کے مسائل اور امدادی وسائل کی قلت کے باعث بہت سے لوگ مدد سے محروم ہیں۔
طویل بحرانپناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے بتایا ہے کہ ملک میں 32 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں جن میں سے ایک لاکھ 76 ہزار نے ہمسایہ ممالک میں پناہ لے رکھی ہے۔ تشدد کی ابتدائی لہر کے دوران نقل مکانی کرنے والے 10 لاکھ روہنگیا اس کے علاوہ ہیں۔
بارودی سرنگوں اور جنگ کے نتیجے میں جا بجا بکھرے گولہ بارود سے لاحق خطرات سے اعتبار سے میانمار دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے۔ گزشتہ سال کے ابتدائی نو مہینوں میں بارودی سرنگوں کی زد میں آ کر 889 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 2023 میں یہ تعداد 1,052 تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے لوگوں کو زلزلے کے کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔
عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان