صیہونی فوج نے خان یونس میں افسر سمیت 7 اہلکاروں کی ہلاکت کا اعتراف کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ منگل کی دوپہر پیش آیا، جب مزاحمت کاروں نے ایک بکتر بند گاڑی "پوما" پر نصب شدہ بارودی مواد کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اسلام ٹائمز۔ قابض صیہونی فوج نے خان یونس میں دو مختلف واقعات میں 7 فوجیوں کی ہلاکت اور دیگر کے زخمی ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔ قابض اسرائیلی فوج نے بدھ کی صبح اعتراف کیا ہے کہ جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملے میں ایک افسر اور 6 فوجی ہلاک جبکہ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ منگل کی دوپہر پیش آیا، جب مزاحمت کاروں نے ایک بکتر بند گاڑی "پوما" پر نصب شدہ بارودی مواد کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس گاڑی میں انجینئرنگ کور کی ایک جنگی یونٹ سوار تھی۔ دھماکے کے بعد گاڑی اور اس میں موجود فوجی آگ کی زد میں آ گئے، جس سے وہ جھلس گئے۔ ان کی شناخت کے لیے کئی گھنٹے درکار ہوئے۔ ہلاکتوں کے اعلان کے بعد قابض فوج نے ان میں سے 6 اہلکاروں کے نام جاری کیے۔ہلاکتوں کے علاوہ منگل ہی کے روز ایک الگ واقعے میں دو اسرائیلی فوجی بھی زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فوج نے
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔