اسرائیلی حملے میں شہید قرار دیے گئے ایرانی جنرل زندہ سامنے آگئے, ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
ایران کی قدس فورس کے سربراہ جنرل اسماعیل قانی کے بارے میں اسرائیلی حملے میں شہادت کی خبریں غلط ثابت ہوئی ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جنرل قانی کو تہران میں ہونے والے ایک عوامی جشن میں زندہ اور خیریت سے دیکھا گیا۔
جنرل قانی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں انہیں تہران کی سڑکوں پر عوام کا پرجوش استقبال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
امریکی جریدے اور بعض مغربی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ 13 جون کو اسرائیلی فضائی حملے میں جنرل قانی شہید ہو گئے تھے۔ تاہم، یہ ویڈیو ان دعوؤں کی واضح تردید بن کر سامنے آئی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ایرانی رہنماؤں کی شہادت کی غلط خبریں پھیلائی گئی ہوں۔ اس سے قبل ایرانی سپریم لیڈر کے اعلیٰ مشیر علی شمخانی کے بارے میں بھی جھوٹی خبر سامنے آئی تھی، جنہوں نے چند دن قبل خود ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ زندہ ہیں اور قربانی دینے کو تیار ہیں۔
Iranian General Esmail Qaani RISES from the DEAD
Declared ‘assassinated’ June 13 after Israeli airstrikes by NYT
Now reportedly seen at Tehran’s ‘Victory Celebration’ — SNN footage pic.
تہران میں ہونے والے اس جشنِ فتح میں ہزاروں افراد شریک تھے، جو ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد منعقد ہوا۔ جنرل قانی کی موجودگی نے ایرانی عوام کے حوصلے مزید بلند کر دیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔