پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے پارٹی کے فیصلوں سے خود کو الگ کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے پارٹی کے فیصلوں سے خود کو الگ کر لیا WhatsAppFacebookTwitter 0 25 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے صدر اور قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤٹس کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر نے پارٹی کے فیصلوں سے خود کو الگ کر لیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں جنید اکبر نے کہا کہ بانی کی ہدایت ہی موصول نہیں ہو رہی تو کیسے فیصلہ کر سکتے ہیں؟ بانی پی ٹی آئی کا پیغام اور حکم حتمی ہوتا ہے، ان کی خلاف ورزی کسی قسم قبول نہیں ہے۔
جنید اکبر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت نہیں تھیں تو بجٹ کیوں پیش کیا گیا؟ پارٹی قیادت نے بانی کی ہدایت کے برعکس یہ فیصلہ کیوں کیا؟
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین۔جنوبی ایشیا ایکسپو نے خطے کی خوشحالی کے لیے سنہری پل تعمیر کیا ، چینی میڈیا اسرائیلی حملے میں شہید قرار دیے گئے ایرانی جنرل زندہ سامنے آگئے کراچی سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے 4 ایجنٹ گرفتار تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہو چکا جو اب رکنے والی نہیں ،محمد عارف اٹلی میں پاکستانی باکسر کے ساتھ چوری کے واقعے کے بعد اہم عدالتی پیش رفت، خالد محمود و دیگر پر پابندی کا حکم معطل سابق آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خان ایف آئی اے میں تعینات اسلام آباد ہائی کورٹ: محسن نقوی کی بطور چیئرمین پی سی بی تقرری کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جنید اکبر نے پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔