قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) کی انتظامیہ نے ادارے کے سابق چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) فیصل ستار کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد اور ذاتی مفاد پر مبنی قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

این آئی سی وی ڈی کے ترجمان کے مطابق سابق سی ایف او نے آٹھ ماہ قبل اعلیٰ حکام کو ایک خط لکھا تھا، جس میں ادارے کے سربراہ پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ اس وقت ادارے نے خط کا تفصیلی جواب بھی دیا تھا، تاہم اب اُن کا دوبارہ پرانا معاملہ میڈیا میں اچھالنا ذاتی مفادات کی عکاسی کرتا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ فیصل ستار خود غیر قانونی مالی ادائیگیوں میں ملوث پائے گئے تھے، جس پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی۔

کمیٹی کے سامنے انہوں نے مالی بے ضابطگیوں کا اعتراف کیا، جس کے بعد ادارے نے سخت ایکشن لیتے ہوئے اُنہیں رقم واپس کرنے کا حکم دیا۔

فیصل ستار نے 54 لاکھ روپے کی رقم واپس کی اور بعد ازاں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

ترجمان کے مطابق خط میں ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر کے خلاف لگائے گئے الزامات جھوٹ پر مبنی، انتقامی جذبے اور ذاتی رنجش کا نتیجہ ہیں۔

این آئی سی وی ڈی ایک شفاف، دیانت دار اور میرٹ پر مبنی نظام پر یقین رکھتا ہے، اور ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سی وی ڈی

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان