اسرائیلی حملے میں زخمی ایرانی کمانڈر علی شادمانی دوران علاج خالق حقیقی سے جا ملے
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایک ہفتے قبل اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے والے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر کمانڈر علی شادمانی دوران علاج اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر علی شادمانی آج ملٹری اسپتال میں انتقال کر گئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے ایک ہفتے قبل 17 جون کو ایک بڑے فضائی حملے میں علی شادمانی کو نشانہ بنایا تھا جس میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔
ایرانی حکام کے بیان میں مزید بتایا گیا کہ جنرل علی شادمانی ملٹری اسپتال میں زیر علاج تھے تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔
ایران کے اعلیٰ ترین فوجی کمانڈرز میں شامل جنرل علی شادمانی ایران کی جنگی حکمتِ عملی کے چیف آف اسٹاف کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے تھے۔
ایرانی عوام اور عسکری حلقوں میں ان کی شہادت پر رنج و غم پایا جاتا ہے۔ان کے جنازے اور سرکاری اعزازات کے ساتھ تدفین کا اعلان جلد ہی کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے 17 جون کے حملے میں ہی علی شادمانی کی شہادت کا دعویٰ کیا تھا لیکن چند روز قبل ہی ایران نے تردید کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علی شادمانی حملے میں
پڑھیں:
امریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں، ایران
ایکس پر جاری بیان میں قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ امریکیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارت کاروں کی نہیں بلکہ میزائلوں کی زبان بہتر سمجھتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکا پر سخت تنقید کی ہے۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارت کاروں کی نہیں بلکہ میزائلوں کی زبان بہتر سمجھتے ہیں۔ ابراہیم رضائی نے ایرانی مسلح افواج خصوصاً پاسداران انقلاب کی بحری اور فضائی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ نے کہا ہے کہ اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر، ایک فضائی اڈے اور خطے میں موجود دیگر امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی قشم جزیرے کے جنوب میں ایک مواصلاتی ٹاور پر امریکی حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر پر مبینہ امریکی حملے کے بعد اس نے ایک ایسے بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا جسے ایران نے امریکی اور اسرائیلی مفادات سے منسلک قرار دیا۔