Express News:
2026-06-03@05:36:54 GMT

مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب

اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT

امریکی ایوان نمایندگان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک بھاری اکثریت سے مسترد ہوگئی ہے، یہ تحریک ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکا کے بلاجواز حملے، ہٹ دھرمی اور ٹرمپ کے صدارتی اختیارات سے تجاوز کے خلاف تھی۔ مواخذے کی تحریک ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن نے پیش کی۔

ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ابتدائی امریکی انٹیلی جنس جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران کی 3 جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں سے بنیادی مواد تباہ نہیں ہوا، جب کہ ایرانی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ’’ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو کسی بھی قیمت پر نہیں روکے گا۔‘‘ سی این این کی رپورٹ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا ہے۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ سیز فائر نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور امن و جنگ کے توازن کو دنیا کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ایران، اسرائیل سیز فائرکے بہت سے اہم پہلو ہیں اور یہ وقتی طور پر ایک بڑی جنگ کو روکنے میں کامیاب رہا ہے، مگر اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا اس کے نتیجے میں خطے میں پائیدار امن قائم ہو پائے گا؟ کیا یہ سیز فائر صرف سفارتی دباؤ یا فوجی تھکن کا نتیجہ ہے یا فریقین کسی بڑی حکمت عملی کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں ایران، اسرائیل اور امریکا کے موجودہ رویوں اور پالیسیوں کا بغور جائزہ لینا ہوگا۔

ایران ایک ایسا ملک ہے جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں بلکہ عالمی سیاست میں بھی اپنے انقلابی موقف، ایٹمی پروگرام اور خطے میں عسکری مداخلت کی وجہ سے ہمیشہ سے متنازع رہا ہے۔ ایران نے 1979کے اسلامی انقلاب کے بعد سے اپنی خارجہ پالیسی کو ’’مزاحمت‘‘ کے اصول پر استوار رکھا ہے۔ چاہے وہ حزب اللہ کی حمایت ہو، حماس کو عسکری مدد فراہم کرنا ہو یا شام، عراق اور یمن میں اپنے اثر و رسوخ کو قائم رکھنا، ایران نے ہمیشہ خود کو امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایک ’’ محاذِ مزاحمت‘‘ کے قائد کے طور پر پیش کیا ہے۔اس کے برعکس اسرائیل ایک جدید، عسکری اعتبار سے مضبوط، اور امریکا کا قریب ترین اتحادی ملک ہے، جس کی پالیسی ہمیشہ سے ’’ پہل کرنے‘‘ پر مرکوز رہی ہے۔

اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے پیشگی حملے کو جائز سمجھتا ہے اور ایران کی ایٹمی صلاحیت کو اپنے وجود کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے ماضی میں ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کے خلاف خفیہ کارروائیاں کیں، ایران کی ایٹمی تنصیبات پر سائبر حملے کیے اور بارہا ایرانی اتحادیوں پر فضائی حملے کیے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس سیز فائر کے پیچھے کئی سطحوں پر دباؤ موجود تھا۔ خطے میں جاری تناؤ، امریکی انتخابات کی گہما گہمی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی سطح پر سفارتی تھکاوٹ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ایران اور اسرائیل دونوں وقتی طور پر پیچھے ہٹ جائیں۔تاہم، اس سیز فائر کے باوجود، ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے، مگر مغربی دنیا، بالخصوص اسرائیل، اسے شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

صدر ٹرمپ کے دور میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے علیحدگی اور ’’ زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی نے نہ صرف ایران کو مزید سخت گیر بنایا بلکہ خطے میں کشیدگی کو بھی بڑھا دیا۔ ٹرمپ کا مؤقف یہ تھا کہ ایران صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے اور نرمی دکھانا کمزوری کے مترادف ہے۔

اسی پالیسی کے تحت امریکا نے ایران کے خلاف معاشی پابندیاں عائد کیں، پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ حالیہ دنوں میں ایران کے اہم جوہری مراکز، بشمول نطنز، فردو اور اصفہان، اسرائیلی اور امریکی حملوں کا نشانہ بنے۔ اسرائیل کی جانب سے پہلے ڈرون حملے اور سائبر وار کے ذریعے نظام کو متاثر کیا گیا، جس کے بعد امریکا نے بی ٹو اسٹیلتھ بمبار طیاروں کے ذریعے ’’ بنکر بسٹر‘‘ بم گرائے، جب کہ ٹوما ہاک کروز میزائلوں کا استعمال کر کے زیرِ زمین تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ان حملوں میں ایران کے کئی ریسرچ سینٹرز اور یورینیم افزودگی کے یونٹ تباہ ہوئے، دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق ابتدائی نتائج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات سے متضاد ہیں جن میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ حملوں سے ایران کی جوہری افزودگی کی تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں جب کہ رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس سینٹری فیوجز بڑی حد تک برقرار ہیں تو اندازہ ہے کہ ا مریکا نے ایران کے جوہری پروگرام کو زیادہ سے زیادہ صرف چند مہینے پیچھے دھکیلا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد امریکی میڈیا پر چلنے والی خبروں کو فیک نیوز قرار دیتے ہوئے میڈیا اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایران کی قیادت بخوبی جانتی ہے کہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا مطلب عالمی تنہائی، عسکری کارروائی اور معاشی تباہی ہے۔ اسی لیے وہ اس پروگرام کو اس نہج پر لا کر رکھتا ہے جہاں وہ خطرہ بھی لگے اور حملے کا جواز بھی نہ بن سکے۔ یہ حکمت عملی ایران کو بیک وقت ایک طاقتور اور مظلوم ریاست کا تاثر دیتی ہے، جو سفارتی میدان میں اس کے لیے فائدہ مند ہے۔

اسرائیل کی بالادستی کی خواہش بھی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ واحد عسکری، ٹیکنالوجی اور سفارتی طاقت ہو جسے کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ اسی لیے وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو ہر قیمت پر ختم کرنا چاہتا ہے، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ صرف عسکری طاقت سے بالادستی ممکن نہیں۔ اسرائیل نے اگرچہ عرب ریاستوں سے سفارتی تعلقات قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، مگر فلسطینی مسئلہ اب بھی ایک سلگتا ہوا سوال ہے۔

فلسطین کی حالت زار، اسرائیل کی جارحانہ پالیسی، اور دو ریاستی حل کی عدم موجودگی خطے میں کسی بھی وقت ایک نیا بحران جنم دے سکتی ہے۔ اسرائیل کی پالیسی یہ ہے کہ فلسطینی ریاست کا قیام نہ ہو، مگر عالمی رائے عامہ اب اس حد تک تبدیل ہو چکی ہے کہ اسرائیل کے لیے پرانے طریقے کارگر نہیں رہے، اگر اسرائیل نے اپنے رویے میں تبدیلی نہ کی، تو وہ خطے میں ایک مستقل تنازع کا مرکز بن کر رہ جائے گا۔

خطے میں پائیدار امن کا خواب صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام فریقین اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔ ایران کو چاہیے کہ وہ عسکری مداخلت، پراکسی جنگوں اور ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کو ترک کر کے اپنے عوام کی بہتری پر توجہ دے۔ اسرائیل کو فلسطینیوں کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا اور امریکا کو اپنی دہری پالیسی چھوڑ کر حقیقی ثالث کا کردار ادا کرنا ہوگا۔مگر کیا یہ سب ممکن ہے؟ کیا مشرقِ وسطیٰ ایک دن امن کا گہوارہ بن سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب مایوس کن بھی ہوسکتا ہے اور امید افزا بھی۔ مایوس کن اس لیے کہ عشروں پر محیط نفرت، تشدد اور بداعتمادی کو ختم کرنا آسان نہیں۔ مگر امید افزا اس لیے کہ نئی نسل اب ان مسائل سے تنگ آ چکی ہے، وہ تعلیم، روزگار، امن اور خوشحالی چاہتی ہے۔

وہ دنیا سے جڑنا چاہتی ہے، نہ کہ ہمیشہ جنگ کے میدان میں رہنا چاہتی ہے۔ایران اگر اپنی معیشت کو درست کرتا ہے، کرپشن کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرتا ہے، انسانی حقوق کی بہتری کے لیے کام کرتا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کرتا ہے تو وہ دوبارہ ایک طاقتور مگر تعمیری ملک بن سکتا ہے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ ایران اپنی خارجہ پالیسی کو نظریاتی شدت پسندی سے نکال کر حقیقت پسندی کی طرف لائے۔اسی طرح اسرائیل کو چاہیے کہ وہ اپنے دفاعی خدشات کو سفارتی اقدامات سے حل کرنے کی کوشش کرے۔ طاقت کے استعمال سے صرف وقتی کامیابی مل سکتی ہے، مگر دیرپا امن صرف مصالحت اور انصاف سے ممکن ہے۔ اسرائیل اگر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیتا ہے، فلسطینیوں کے حقوق بحال کرتا ہے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتا ہے تو وہ خطے میں ایک مثبت قوت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

امریکا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے، اگر وہ صرف اسرائیل کا حمایتی بن کر نہیں بلکہ ایک غیر جانب دار ثالث کے طور پر کردار ادا کرتا ہے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ امریکا کو چاہیے کہ وہ ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرے، پابندیوں کو سیاسی ہتھیار بنانے کے بجائے سفارتی حل کی طرف آئے اور مشرقِ وسطیٰ کو جنگی ساز و سامان کا بازار بنانے سے گریز کرے۔

 خطے میں پائیدار امن کا خواب تبھی شرمندہ تعبیر ہوگا جب قیادتیں عوامی خواہشات کو سنجیدگی سے لیں گی۔ جنگ، نفرت اور دشمنی کی سیاست اگرچہ فوری فائدہ دیتی ہے، مگر طویل المدتی تباہی کا پیش خیمہ بھی بنتی ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکا کو اب سنجیدگی سے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ وہ اپنے اپنے مفادات کی حفاظت کرتے ہوئے خطے کے عوام کو بھی سکون کا سانس لینے دیں۔ مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل جنگ و جدل کے بغیر بھی ممکن ہے۔

صرف ایک نئے بیانیے، نئی سوچ اور نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم تاریخ سے سبق سیکھیں اور آنے والی نسلوں کے لیے امن، خوشحالی اور تعاون کی بنیاد رکھیں۔ اگر ایسا نہ ہوا، تو یہ خطہ ایک بار پھر عالمی جنگ کا میدان بن جائے، جہاں صرف خون، آنسو اور تباہی ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں پائیدار امن ایٹمی پروگرام میں ایران کے چاہیے کہ وہ پروگرام کو اسرائیل کی اور امریکا تنصیبات پر کہ ایران سیز فائر ایران کی ہے کہ اس کرتا ہے ممکن ہے کے ساتھ کے خلاف ٹرمپ کے ہے کہ ا امن کا ہے اور کے لیے

پڑھیں:

واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار

واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔

یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.

???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS

— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026

تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی

اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام