Express News:
2026-07-24@13:44:05 GMT

سائن بورڈز

اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT

پتا تو یہی لگ رہا ہے مگرجانے جو پہچان انھوں نے بتائی تھی، وہ کہاں گئی۔ گوگل کی ایپ بھی بار بار یہیں گھما پھرا کر لاتی ہے اور یہاں پہنچ کر کہتی ہے کہ آپ کی منزل مقصود آ گئی ہے۔ یہاں پر تو کوئی بڑا سا لال سائن بورڈ نہیں ہے جس پر فلاں فلاں پزا کی دکان کا نام لکھا ہو… ہاں جو عامل نجومی والا بورڈ انھوں نے بتایا تھا وہ تو یہاں موجود ہے۔

ایک کمپنی کا لال بورڈ… اس کے ساتھ سے دائیں مڑ جائیں۔ آگے پھلوں اور سبزیوں کی منڈی نما مارکیٹ ہے، اس کے آخر پر عامل نجومی بابا کا وہی نیلا بورڈ جس پر لال رنگ سے لکھا ہوا ہے، پتھر دل محبوب آپ کے قدموں میں، سخت سے سخت دل محبوب کو مائل اور قائل کریں۔ دشمنوں سے ایک دن میں نجات… اس بورڈ سے بھی بڑا بورڈ نظر نہیں آ رہا تھا جسے لال رنگ کا ہونا تھا اور اس پر کالے رنگ سے پزا کی دکان کا نام لکھا ہوناتھا۔

اچانک احساس ہوا کہ ارد گرد اور سڑک کے دونوں اطراف کی دکانوں کے بورڈ ایک جیسے رنگ اور سائزکے ہیں، سبز اور سفید۔ ان بورڈز کو پڑھنا شروع کیا تو ایک دکان گاڑیوں کے ٹائروں کی تھی، ساتھ والی مچھلی فروش کی، پھر مٹھائی کی، اس کے ساتھ کتابوں کی، اس کے ساتھ سائیکلوں کی اور اسی طرح کپڑوں ، جوتوں اور برتنوں کی دکانیں مگر ان سب کا ایک جیسا رنگ اور ایک جیسا سائز۔

گاڑیوں کے ٹائروں کے بورڈ پر ٹائر، مچھلی کی دکان کے بورڈ پر مچھلی، برتنوں کی دکان کے بورڈ پر مچھلی، جوتوں کی دکان کے بورڈ پر جوتے ، مٹھائی کی دکان کے بورڈ پر مٹھائی کی، کپڑوں کی دکان کے بورڈ پر، جوتے اور سائیکلوں کی دکان کے بورڈ پر سائیکل کی تصویر بھی نہیں بنی ہوئی تھی۔ اتنے سادہ اور پھیکے سے بورڈکہ انھیں دیکھ کر کشش بھی محسوس نہ ہو اور نہ دل کھنچے کہ مچھلی کھائی جائے۔

یہ علاقہ مارکیٹ سے زیادہ کسی سیاسی جماعت کا دفتر نما علاقہ زیادہ لگ رہا تھا۔ یہ شاید صوبے کو صاف ستھرا رکھنے کی مہم کا ایک حصہ ہے مگر اس سے بالکل تاثر نہیں مل رہا تھا کہ یہ کوئی بازار ہے، ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی سرکاری دفاترہیں یا کچہری میں مختلف وکیلوں کے دفاتر کے بورڈ ہیں۔ صفائی کی مہم میں جہاں پر زور دیا جانا چاہیے، وہ وہیں کے وہیں ہیں۔ کئی جگہوں پر جو سڑک سے واضع نظر نہیں آتیں، وہاں کوڑے کے ڈھیر بھی ہیں۔

کہیں جو تجاوزات کو ہٹانے کے لیے غیر قانونی تھڑے اور سیڑھیاں بنائی گئی تھیں یا نالوں کو ڈھک کر ان پر دکانوں کے تھڑے بنائے گئے تھے، انھیں توڑ تو دیا گیا مگر ان کھل جانے والے نالوں سے بدبو کے بھبکے بھی اٹھ رہے تھے اور جو چار دن میں مون سون شروع ہو جائے گا تو سب غلاظتیں اور آلائشیں ابل ابل کر باہر آ جائیں گی اور ماحول کی ’’ خوبصورتی‘‘ کو دوبالا کر دیں گی۔

اگر آپ نے کسی ایک صوبے یا اس کے شہروں کو صاف ستھرا بنانے کی کاوشوں کا آغازکیا ہے تو اس کے لیے ایسی غیر ضروری چیزوں کی کیا ضرورت ہے؟ دکانوں کے ایک جیسے بورڈ بنانا توکسی بھی طرح اس زمرے میں نہیں آتا کہ اس سے صفائی کا کوئی بہت اچھا تاثر ابھرے، دنیا بھر میں ایسا کہیں نہیں ہوتا۔ ہر دکان کا، دکاندار کا، کاروبار کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے۔

مچھلی، مٹھائی ، کتابوں اور سائیکلوں کی دکانوں کے ایک جیسے بورڈ ہونے کا کوئی مقصد سمجھ میں نہیں آتا۔ ہمارے ہاں تو لوگوں کے گھروں اور خالی پلاٹوں پر لکھی ہوئی اشتہاروں کی عبارتیں ہی بیس بیس سال تک لوگوں کو راستہ سمجھانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، اگر کسی وجہ سے وہ دیوار ڈھا دی جائے جس پر وہ عبارت لکھی ہو یا اس پر لکھی ہوئی عبارت کو مٹا کر کچھ اور لکھ دیا جائے تو لوگوں کو پتا سمجھانے اور سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے کجا یہ کہ آپ بیس فٹ کا بڑا سا بورڈ اتار کر اس پر عام سا سادہ سفید بورڈ لگا دیں اور وہ اس بورڈ سے ذرا سی بھی مماثلت نہ رکھتا ہو۔ بالآخر کسی سے پوچھنے پرعلم ہوا کہ انھی سفید اورہرے رنگ کے سائن بورڈز میں سے ایک سائن بورڈ اسی پزا شاپ کا ہے جس کے ساتھ سے گلی مڑتی ہے جس میں ہمیں جانا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی دکان کے بورڈ پر دکانوں کے رہا تھا کے ساتھ

پڑھیں:

نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟

فرحت اشتیاق کے مقبول ناول ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پر مبنی پاکستان کی پہلی نیٹفلکس اوریجنل سیریز کی ریلیز سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔

’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پہلی بار 2009 میں خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا تھا، جس کے بعد 2013 میں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس پر مبنی نئی سیریز کو 2026 کے اختتام تک نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا۔

اگرچہ اس سے قبل کئی کامیاب پاکستانی ڈرامے ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد نیٹ فلکس پر دستیاب کیے جا چکے ہیں، تاہم ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ہو گی، جسے ہم ٹی وی اور نیٹ فلکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔

سیریز کی کاسٹ میں ماہرہ خان، فواد خان، بلال اشرف، حمزہ علی عباسی، ہانیہ عامر، اقرا عزیز، صنم سعید، احد رضا میر، نادیہ خان اور دیگر معروف فنکار شامل ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری اور پروڈکشن مومنہ درید نے کی ہے۔

یہ سیریز ابتدائی طور پر 2025 میں ریلیز ہونا تھی، تاہم مقررہ وقت پر اس کی نمائش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد طویل عرصے تک نہ کاسٹ اور نہ ہی پروڈیوسرز کی جانب سے کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ سامنے آئی، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ شاید منصوبہ ملتوی یا منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اب تازہ اطلاعات کے مطابق مومنہ درید اس وقت سیریز کی فائنل ایڈیٹنگ کی نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کاسٹ اس کی تشہیری مہم کا آغاز بھی کرے گی۔

دوسری جانب، کئی سال کی تاخیر کے باعث پاکستانی ناظرین اب بھی ریلیز کی خبروں پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک مداح نے لکھا، ’’جب تک اقساط ریلیز نہیں ہوتیں، میں یقین نہیں کروں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’مجھے اب بھی اس خبر پر اعتماد نہیں۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم منظور
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • Google سیلفی ویڈیو فیچر، اکاؤنٹ سائن اِن مزید محفوظ بنانے کا نیا طریقہ
  • پاپ کوئین میڈونا کی شاندار واپسی، ’کنفیشنز 2‘ بل بورڈ 200 پر نمبر ون
  • کراچی: لانڈھی 89 کے قریب گیس سلنڈر کی دکان میں دھماکا، آگ بھرک اتھی
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا