اسلام آباد:

وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی جانب گامزن کیا جا رہا ہے اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے پالیسی اقدامات تیار ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان کی زیر صدارت الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی سے متعلق پانچویں اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزارتوں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، اسٹیٹ بینک، سی ڈی اے اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹرز نے شرکت کی۔

اجلاس میں اسٹیئرنگ کمیٹی نے 30-2025 کی نئی انرجی وہیکل پالیسی کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سبسڈی اسکیم کے پہلے مرحلے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

پاکستان کے موسمی حالات کے تناظر میں بیٹری کی خصوصیات اور کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

ہارون اختر نے کہا کہ الیکٹرک وہیکل پالیسی پر وزارتِ صنعت نے صوبوں سے مشاورت کی اور عمل درآمد کے لیے تعاون جاری رہے گا، گرین ہاؤس گیسز کی کمی اور کاربن کریڈٹ کے لیے بین الاقوامی معیارات سے تجزیہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے پالیسی اقدامات تیار ہیں اور وزیراعظم کے وژن کے مطابق پاکستان کو ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی جانب گامزن کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم معاون خصوصی نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیاں نہ صرف درآمدی ایندھن پر انحصار کم کریں گی بلکہ ماحولیاتی آلودگی بھی کم ہو گی، حکومت کا عزم ہے کہ پاکستان کو گرین ٹرانسپورٹ نظام کی طرف لے جایا جائے۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ نئی پالیسی کا مقصد ٹیکنالوجی، معیشت اور ماحولیات سے ہم آہنگ ترقی ہے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان معاون خصوصی وزیراعظم کے ہارون اختر ماحول دوست نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان