Jang News:
2026-06-03@07:03:46 GMT

لوگ غیر جمہوری رویوں کی وجہ سے مائنس ہوتے ہیں، رانا ثناء

اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT

لوگ غیر جمہوری رویوں کی وجہ سے مائنس ہوتے ہیں، رانا ثناء

وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ لوگ اپنے عمل یا غیرجمہوری رویوں کی وجہ سے مائنس ہوتے ہیں۔

اپوزیشن ممبران سے ملاقات کے بعد جیو نیوز سے گفتگو میں رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ سیاسی معاملات میں نہ بیٹھنے کی صورت بھی اپوزیشن کی طرف سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت تمام معاملات پر بات چیت کرنے کےلیے تیار ہے، وزیراعظم نے فلور آف دی ہاؤس اپوزیشن کو ایک کھلی آفر کی تھی۔

میرا خیال ہے عمران مائنس ہو گئے: علیمہ خان

بانیٔ پی ٹی آئی کی منظوری کے بغیر خیبر پختونخوا اسمبلی سے بجٹ منظور ہونے پر علیمہ خان کا ردِعمل سامنے آ گیا۔

مشیر سیاسی امور نے مزید کہاکہ وزیراعظم نے بات چیت اور مذاکرات کے لیے اپوزیشن کو کہا تھا، وزیراعظم نے اپوزیشن کو کہا کہ میرے ساتھ نہیں بیٹھنا تو اسپیکر چیمبر میں آئیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن اسپیکر چیمبر میں آئے، میں ساتھیوں کے ساتھ وہاں آجاؤں گا، جمہوریت بات چیت سے چلتی ہے، شہباز شریف نے کہا ہم مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔

رانا ثناء اللّٰہ نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات ہمارا سیاسی موقف ہے، فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس کا نفاذ کیا گیا تھا اور بعد میں ایک سال کے لیے موخر کرنے کا کہا گیا تھا، اس سے متعلق کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ میٹنگز کے نتیجے میں فاٹا اور پاٹا میں انکم ٹیکس چھوٹ اور دیگر مراعات برقرار رکھی گئیں، چیمبر آف کامرس انڈسٹریز کا فاٹا پاٹا میں ان مراعات پر تشویش تھی۔

مشیر سیاسی امور نے کہا کہ خیبر پختونخوا سے ممبران اسمبلی کے ساتھ آج ایک میٹنگ ہوئی، سیاسی درجہ حرارت میز پر بیٹھ کر بات چیت کرنے سے ہی کم ہوگا، مذاکرات کی میز پر سیاسی جماعتیں اگر نہیں بیٹھ رہیں تو اس کی وجہ بانی پی ٹی آئی ہیں۔

کچھ سازشی صوبے میں فنانشل ایمرجنسی، گورنر راج چاہتے ہیں، علی امین گنڈاپور

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ کچھ سازشی چاہتے ہیں صوبے میں فنانشل ایمرجنسی اور پھر گورنر راج لگالیں۔

صحافی نے استفسار کیا کہ علیمہ خان تو بانی پی ٹی آئی کو مائنس کرنے کا کہہ رہی ہیں؟ جس پر رانا ثناء نے جواب دیا کہ میں نے اپنی سیاسی زندگی میں دیکھا ہے اس طرح کسی کو مائنس نہیں کیا جاسکتا، لوگ اپنے عمل یا غیر جمہوری رویوں کی وجہ سے مائنس ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں تو سیاسی معاملات حل ہوسکتے ہیں، وہی موقف اپنائیں کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا تو پھر معاملات حل کی طرف نہیں بڑھتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی رانا ثناء نے کہا کہ بات چیت کی وجہ

پڑھیں:

وزیراعظم کی معروف صنعتکاروں، ممتاز کاروباری شخصیات سے ملاقات، پالیسی سازی، بجت سے متعلق مشاورت

وزیراعظم شہباز شریف سے ملک کے معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد نے ملاقات کی، یہ ملاقات ملک کی مجموعی معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور مالی سال 2026-2027 کے بجٹ کے حوالےسے کاروباری برادری سے مشاورت کے تناظر میں تھی۔

وفد میں میاں محمد منشا، عارف حبیب، عاطف باجوہ، محمد علی تبہ، مصدق ذوالقرنین، زیاد بشیر، شہزاد سلیم، زیلاف منیر، عمر سعید، عمر منشا، یوسف سعید، کامران ارشد، خرم مختار ، آصف پیر، سلطان گوہر اعجاز، فواد انور، ذوالفقار حیات، جاوید اقبال، یوسف حسین، عامر ابراہیم، خواجہ مسعود اختر اور اعجاز نبی شامل تھے۔

وزیراعظم نے وفد کو خوش آمدید کہا اور گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ پاکستان کے سفیر اور دنیا میں ہماری پہچان ہیں، مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کے شکر گزار ہیں، حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کے حوالے سے پالیسی سازی میں کاروباری برادری سے مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے، برآمدات پر مبنی  ترقی کی راہ پر گامزن ہیں،  یہی ہماری معاشی پالیسی کا محور ہے، غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات شامل کئے جا رہے ہیں، کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت مستحکم ہوئی اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، ایسی صنعتوں کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں جن سے ملکی پیداوار بڑھے، برآمدات میں اضافہ ہو،  ملازمتوں کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ صنعت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ترقی سے معیشت کو مزید استحکام ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے، نوجوانوں کیلئے تکنیکی و فنی تربیت کے پروگرام شروع کئے ہیں تاکہ انکو روز گار ملنے میں آسانی ہو اور وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

وفد کو کاروبار، صنعت و تجارت کے فروغ کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات جلد نمٹائے کیلئے   ٹیکس ٹریبونلز میں اصلاحات کی گئی ہیں؛ ان ٹریبونلز میں انتہائی شفاف طریقہء کار کے ذریعے بھرتیاں کی گئی ہیں، اسپیشل کمرشل کورٹس کے قیام کے حوالےسےکمیٹی تشکیل دی گئی ہے، کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے کے لئے موٹر وے ایم- 10 کی اپ گریڈیشن اور پیپری فریٹ کوریڈور پر کام جاری ہے۔

بریفنگ  کے مطابق موٹر وے ایم 13 (کھاریاں-راولپنڈی) کی تعمیر سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ کم ہو جائے گا، پاکستان ریلوے کی ایم۔ایل ون اور ایم ایل- ٹو کی اپ گریڈیشن سے ریلوے کا انفرااسٹرکچر بہتر ہو گا جس سے تجارتی سامان کی ترسیل بہتر ہو گی، نیشنل اے-آئی ٹرانسفارمیشن پلان تشکیل دیا جا رہا ہے، شوگر اور سیمنٹ سیکٹر کی پیداوار کے حوالے سے ان صنعتوں میں وڈیو اینالیٹکیس کی تنصیب سے ریوینیو کی مد میں بہتری آئی۔

وفد نے خطے میں امن کی بحالی کے لئے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا،  کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم کی قیادت میں معاشی بحالی کے سفر اور بہتر مالیاتی انتظام پر اعتماد کا اظہار کیا۔

وفد نے ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے اور کاروبار و سرمایہ کاری کیلئے موزوں ماحول فراہم کرنے پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے حکومتی وژن کو سراہتے ہیں۔

وفد نے ٹیکس اصلاحات اور کاروباری آسانیوں کے فروغ کے اقدامات کا خیرمقدم کیا، کاروباری رہنماوں نے صنعتوں کیلئے بجلی کے نرخوں میں کمی لانے، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ لیوی کے خاتمے اور ٹیکس ریفنڈ کی بروقت ادائیگیوں پر وزیراعظم سے اظہار تشکر  کیا۔

شرکاء نے آئندہ بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کو اعتماد میں لینے کے اقدام کو سراہا، کاروباری رہنماؤں نے قومی معیشت کی مضبوطی اور  بجٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز وزیراعظم کو پیش کیں، کاروباری برادری نے معاشی بحالی اور ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

وفد کے شرکاء نے صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حکومتی عزم کو سراہا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر  اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، اٹارنی جنرل منصور اعوان ، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم کی معروف صنعتکاروں، ممتاز کاروباری شخصیات سے ملاقات، پالیسی سازی، بجت سے متعلق مشاورت
  • توانائی بچت مہم، وزیراعظم نے کاروباری اوقات کار کی منظوری دیدی
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ