موسمی خرابی کے باعث فلائٹ آپریشن متاثر، 2 پروازیں منسوخ، 39 تاخیر کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
ملک کے مختلف شہروں میں خراب موسم اور طوفانِ بادو باراں کے باعث فضائی آپریشن شدید متاثر ہوا ہے۔ قومی ایئرلائن پی آئی اے کی لاہور اور کراچی کی 2 اہم پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ 39 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔
ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق قومی ایئرلائن کی کراچی سے لاہور جانے والی پروازیں پی کے 302 اور لاہور سے کراچی کی واپسی پرواز پی کے 303 کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔
تاخیر کا شکار پروازیںاسلام آباد: 12 پروازیں تاخیر کا شکار
لاہور: 14 پروازوں کی آمد و روانگی متاثر
کراچی: 7 پروازیں تاخیر کا شکار
استنبول سے آنے والی ترک ایئرلائن کی پرواز TK-714 کو کراچی میں اتارنے کے بعد لاہور روانہ کیا گیا۔ اسی طرح سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے اسلام آباد آنے والی پرواز PF-769 کو ملتان ایئرپورٹ پر لینڈ کروایا گیا۔
بین الاقوامی پروازوں کو مشکلاتخراب موسم کے باعث شارجہ، راس الخیمہ، کولمبو، دبئی، پیرس اور دوحہ سے لاہور آنے والی پروازوں کو لینڈنگ میں مشکلات کا سامنا رہا۔
لاہور سے جدہ کی 12، ریاض کی 6 اور ابوظبی کی ایک پرواز کو روانگی میں 4، چار گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔ اس کے علاوہ دوحہ، دبئی، ٹورنٹو اور دیگر شہروں کو جانے والی پروازیں بھی متاثر ہوئیں۔
موسم کی صورتحاللاہور، اسلام آباد اور فیصل آباد کے بعد پشاور میں بھی گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کی وجہ سے فضائی آپریشن میں مزید خلل پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایئرلائنز سے اپنی پروازوں کے تازہ ترین شیڈول کی تصدیق کر لیں تاکہ کسی پریشانی سے بچا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پروازوں میں تاخیر پی آئی اے طوفان بادوباراں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پروازوں میں تاخیر پی ا ئی اے طوفان بادوباراں تاخیر کا شکار والی پرواز
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔