اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نے نئے مالی سال 26-2025 کے فنانس بل کی منظوری دے دی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی، وزیر خزانہ نے فنانس بل پر کابینہ کو بریفنگ دی، جس کے بعد وفاقی کابینہ نے نئے مالی سال کے فنانس بل کی منظوری دی۔
فنانس بل منظور کرنے کی تحریک کثرت رائے سے منظور کرلی گئی جس کے بعد فنانس بل کی شق وار منظوری کا عمل شروع کردیا گیا۔
اجلاس کے دوران فنانس بل کی منظوری ملتوی کرنے اور عوامی رائے کیلئے بجھوانے سے متعلق اپوزیشن کی ترمیم کثرت رائے سے مسترد کردی گئی۔
وزیر خزانہ اورنگزیب نے مالی بل 2025 قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لانے کی تحریک پیش کی جب کہ اپوزیشن کی جانب سے اس تحریک کی مخالفت کی گئی۔
فنانس بل میں ارکان کی جانب سے ترامیم پیش کی گئیں، مبین عارف نے کہا کہ بل پر عوام کی رائے لی جائے، جتنی دیر تک عوام کی رائے نہیں آجاتی اتنی دیر تک بل کو موخر کیا جائے۔
عالیہ کامران نے کہا کہ اصل اسٹیک ہولڈرز عوام ہیں، ٹیکس عوام نے ادا کرنا ہے، عوام کے ساتھ مشاورت ہونی چاہئے۔
عالیہ کامران اور مبین عارف کی ترامیم کثرت رائے سے مسترد کردی گئیں۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نے نئے مالی سال 26-2025 کے فنانس بل کی منظوری دے دی۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے فنانس بل کی منظوری وفاقی کابینہ نے مالی سال

پڑھیں:

بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آنے والے بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے ملک کے معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔

اس موقع پر کاروباری طبقے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومت ایسی صنعتوں کے فروغ کیلیے کوشاں ہے، جن سے ملکی پیداوار بڑھے، برآمدات میں اضافہ اور ملازمتوں کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ کاروبار دوست پالیسیوں سے ملکی معیشت مستحکم اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، یہی ہماری معاشی پالیسی کا محور ہے جب کہ غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا رہا ہے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ صنعت، زراعت اور آئی ٹی شعبوں میں ترقی سے معیشت کو مزید استحکام ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ نوجوانوں کیلیے تکنیکی اور فنی تربیت کے پروگرام شروع کیے ہیں، اس پروگرام سے بھی روزگار ملنے میں آسانی ہوگی اور قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کیا جا سکے گا۔

انہوں نے مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری ہی معاشی ترقی کی ضمانت ہے اور پاکستانی معیشت سے متعلق پالیسی سازی میں مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

اس موقع پر کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم کی قیادت میں معاشی بحالی کے سفر اور بہتر مالیاتی انتظام پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس اصلاحات اور کاروباری آسانیوں کے فروغ کے اقدامات کا خیر مقدم کیا اور ساتھ ہی ڈیجیٹل ادائیگیوں اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے حکومتی وژن کو سراہا۔

مزید پڑھیں۔جی بی الیکشن:سکردو سےمسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی مل گئی

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم
  • جزوی لاک ڈاون، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی
  • توانائی بچت مہم، وزیراعظم نے کاروباری اوقات کار کی منظوری دیدی
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی