Daily Ausaf:
2026-06-03@02:50:14 GMT

موجودہ امریکہ سابق صدر جمی کارٹر کی نظر میں

اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT

(گزشتہ سے پیوستہ)
انہی نظریات کو سامنے رکھتے ہوئے چند عیسائی لیڈر عراقی جنگ کو بڑھانے میں پیش پیش رہے ہیں اور بار بار اسرائیل کے دورے کرتے رہے ہیں۔ وہ اس کی مدد کے لیے اسے چندے بھی دیتے رہے ہیں اور فلسطینی علاقے کو نوآبادی بنانے کے لیے واشنگٹن میں لابنگ کرتے رہے ہیں۔ یہ دائیں بازو کا مذہبی دباؤ تھا کہ امریکہ نے اسرائیلی بستیاں اور مغربی کنارے کے فلسطینی علاقے میں ہائی ویز کو قبول کر لیا۔ چند اسرائیلی لیڈروں نے یہودیوں کی آخری مصیبت کو نظرانداز کرتے ہوئے اس امداد کو قبول کر لیا۔‘‘ (ص ۱۱۲)
’’گھر میں شہری حقوق کی اس فتح کے باوجود امریکہ نے مشرقِ وسطٰی اور دوسرے خطوں کی انتہائی ظالمانہ حکومتوں کو قبول کیے رکھا اور ان کی مدد بھی کرتا رہا۔ حالانکہ حکومتیں اپنے شہریوں کے انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہی تھیں۔‘‘ (ص ۱۱۵)
’’گزشتہ چار سو برسوں میں ان حقوق کے تحفظ کے لیے ہمارے ملک کی پالیسیوں میں ڈرامائی تبدیلیاں آئی ہیں۔ ہمارے بیشتر شہریوں نے دہشت گردانہ حملوں کے خوف سے ان عدیم النظیر پالیسیوں کو قبول کر لیا ہے۔ تاہم امریکی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ امریکہ، جسے پہلے انسانی حقوق کے ممتاز ترین چیمپئن کی حیثیت سے تقریباً آفاقی طور پر سراہا جاتا تھا، اب جمہوری زندگی کے ان بنیادی اصولوں سے متعلق بین الاقوامی تنظیموں کی تنقید کا سب سے بڑا ہدف بن چکا ہے۔
نائن الیون کے حملے کے بعد امریکی حکومت نے غیر ضروری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پورے امریکہ میں ۱۲۰۰ سے زیادہ بے گناہ افراد کو گرفتار کروا لیا۔ ان میں سے کوئی ایک بھی پہلے کسی دہشت گردی سے مربوط جرم میں ملوث نہیں ہوا تھا۔ ان کی شناخت راز میں رکھی گئی اور انہیں اپنے خلاف الزامات سننے یا قانونی مشاورت حاصل کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ گرفتار ہونے والے تقریباً سارے افراد عرب یا مسلمان تھے اور بیشتر کو امریکہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ شہری آزادیوں کی ایسی پالیسیوں کو قانونی روپ دینے کے لیے ’’پیٹریاٹ ایکٹ‘‘ بہت جلدی میں منظور کیا گیا۔‘‘ (ص ۱۱۵)
’’افغانستان اور عراق میں جنگوں کے دوران بالغ مردوں کے علاوہ بہت سے کم عمر لڑکوں کو گرفتار کر کے گوانتاناموبے (کیوبا) میں واقع ایک امریکی قید خانے میں منتقل کر دیا گیا۔ اس قید خانے میں ۴۰ ملکوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً ۵۲۰ افراد کو قید میں رکھا گیا ہے۔ انہیں اس قید خانے میں تین سال کا عرصہ گزر گیا ہے جبکہ نہ تو ان پر باقاعدہ کوئی الزام عائد کیا گیا ہے اور نہ ہی انہیں قانونی مشاورت حاصل کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ کئی امریکی اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ ان قیدیوں پر جسمانی تشدد کیا جا رہا ہے۔‘‘ (ص ۱۱۶)
’’عراقی میجر جنرل عید حامد مہوش نے اپنے بیٹوں کو ڈھونڈنے کی کوشش میں بغداد میں امریکی افسروں کو رضاکارانہ طور پر گرفتاری دی، اسے گرفتار کر کے اس پر تشدد کیا گیا اور اسے ایک سبز سلیپنگ بیگ میں بند کر دیا گیا جس میں دم گھٹنے سے وہ ۲۶ نومبر ۲۰۰۳ء کو مر گیا۔‘‘ (ص ۱۹۹)
’’اتنی ہی پریشان کن وہ رپورٹیں ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حکومت بعض دوسرے ملکوں کی حکومتوں کو دہشت گردی کو روکنے کے لیے جارحانہ پالیسیاں اپنانے پر اکسا رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں جمہوری اصول اور قانون کی حکمرانی خطرے میں پڑ گئے ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی بڑھ گئی ہے۔ امریکی پشت پناہی سے جابرانہ اقدامات کرنے والی حکومتوں کی کاروائیاں پیٹریاٹ ایکٹ کے تحت ہونے والی کاروائیوں سے بھی بڑھ گئی ہیں۔‘‘ ( ص ۱۲۰)
’’جو کچھ ہو رہا ہے امریکی حکام کو اس کا علم تھا۔ محکمہ خارجہ شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے پہلے ہی بتا چکا ہے کہ سابقہ قیدیوں اور حراست میں رکھے جانے والے افراد نے بتایا کہ قیدیوں پر تشدد کے طریقوں میں شامل ہے: بجلی کے جھٹکے لگانا، ناخن کھینچنا، مارنا پیٹنا، چھت سے لٹکانا، ریڑھ کی ہڈی کو بہت زیادہ کھینچنا، کرسی پر بٹھا کر پیچھے جھکانا جس سے قیدی کی ریڑھ کی ہڈی کے مہرے سرک جاتے ہیں۔‘‘ (ص ۱۲۴)
’’اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 30,000 (تیس ہزار) ایٹم بم موجود ہیں جن میں سے بارہ ہزار ایٹم بم امریکہ کے پاس ہیں۔ روس کے پاس سولہ ہزار، چین کے پاس چار سو، فرانس کے پاس ساڑھے تین سو، اسرائیل کے پاس دو سو، برطانیہ کے پاس ایک سو پچاسی، اور ہندوستان اور پاکستان کے پاس چالیس چالیس ایٹم بم ہیں۔ اس امر کا یقین کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس اتنا نیوکلیئر ایندھن ہے جس سے نصف درجن ایٹم بم بنائے جا سکتے ہیں۔‘‘ (ص ۱۲۹)
’’گزشتہ پچاس برسوں کے دوران ایٹمی اسلحہ پر کنٹرول کے لیے جتنے معاہدوں پر مذاکرات کیے گئے ہیں امریکہ ان میں سے تقریباً تمام معاہدوں کی خلاف ورزی کر چکا ہے، اور ایٹمی اسلحہ کے عالمگیر پھیلاؤ کا سب سے بڑا مجرم (Prime Culprit) بن چکا ہے۔ سابق وزیردفاع میکنامارا نے مئی، جون ۲۰۰۵ء کے فارن افیئرز میں اپنے خدشات کا یوں اظہار کیا تھا کہ میں امریکہ کی موجودہ ایٹمی اسلحہ پالیسی کو غیر اخلاقی، غیر قانونی، فوجی اعتبار سے غیر ضروری اور ہولناک حد تک خطرناک سمجھتا ہوں۔‘‘ (ص ۱۲۹)
’’ایک اور تاریخی و بین الاقوامی عہد کو توڑ دیا گیا ہے۔ اور وہ عہد یہ تھا کہ موجودہ ایٹمی ہتھیاروں کی آزمائشیں نہ کی جائیں اور نئے ایٹمی ہتھیار نہ بنائے جائیں۔‘‘ (ص ۱۳۵)
’’اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں کے کسی کنٹرول میں اور زیرنگرانی نہ ہونے کی وجہ سے اس کے پڑوسی ملکوں ایران، شام، مصر اور دوسرے عرب ملکوں کے لیڈر ایٹمی ہتھیاروں کی مالک برادری میں شامل ہونے کا سوچ رہے ہیں۔‘‘ (ص ۱۳۷)
’’موجودہ امریکی پالیسی ان بین الاقوامی معاہدوں کے مؤثر ہونے کے لیے خطرہ بن رہی ہے جن کے لیے تقریباً تمام سابق صدور نے جانفشانی سے مذاکرات کیے تھے۔ عالمی استحکام کو درپیش اس سے بھی بڑا خطرہ پیش بندی کے لیے کی جانے والی جنگ کی پالیسی ہے جس کی پہلے کبھی مثال نہیں ملتی۔ یہ حالیہ فیصلہ نہ صرف امریکہ کی تاریخی پالیسیوں سے انحراف ہے بلکہ ان بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی بھی ہے جن کے احترام کا ہم وعدہ کر چکے ہیں۔
(جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بین الاقوامی کی خلاف ورزی کو قبول رہے ہیں حقوق کی ایٹم بم دیا گیا کے پاس چکا ہے کے لیے گیا ہے

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان