امریکی میڈیا میں فضول بحث چل رہی ہے، ڈاکٹر کامران بخاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
لاہور:
تجزیہ کار ڈاکٹر کامران بخاری کا کہنا ہے کہ امریکی میڈیا کے اندر بھی ایک فضول سی بحث چل رہی ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام تباہ ہوا ہے یا نہیں ہوا ہے، حقیقت یہ ہے کہ جنگی نقصان کا تخمینہ (بی ڈی اے) یہ ٹائم لیتے ہیں پھر بیچ میں لیکس ہوتی ہیں پھر اخبارات کو مل جاتا ہے، پھر کہانیاں بن جاتی ہیں ، پھر انکار ہوتا ہے، تو یہ ایک سرکس لگ جاتی ہے اور جو اصل حقیقت ہے وہ سامنے نہیں آتی.
ایکسپریس نیوز کے پروگرام سٹیٹ کرافٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جہاں تک میرا اپنا تجزیہ ہے جتنی بھی معلومات سامنے آئی ہیں اس سے مجھے اندازہ ہوا ہے کہ نقصان تو ہوا ہے اور ٹھیک ٹھاک ہوا ہے.
تجزیہ کار ڈاکٹر تیمور رحمن نے کہا کہ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ نہ صرف بیس سال بلکہ تقریباً بتیس سالوں سے یہی ہم لوری سنتے آئے ہیں کہ ایران کے پاس بہت بڑے بڑے نیوکلیئر ویپنز ہیں، آرسنل پورا ایک، دو ہفتے میں پیدا ہو جائے گا یہ بالکل بکواس اور احمقانہ بات ہے، بہت عرصہ سے ایران نے یہ مینٹین کیا ہے کہ ہمارا پروگرام صرف انرجی کیلیے ہے، آئی اے ای اے نے دہائیوں سے اس کا معائنہ کیا ہے، ابھی حال ہی میں اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہماری پاس جوہری ہتھیار بنانے کی کسی منظم پیش قدمی کے کوئی شواہد نہیں ہیں، یہ وہی قصہ کہانی ہے جو ہم نے عراق میں پہلے دیکھی تھی.
ماہر بین الاقوامی امور ڈاکٹر عادل سلطان نے کہا کہ رجیم چینج میرا خیال ہے یہ زیادہ تر پریشر ٹیکٹکس تھے جو ٹرمپ نے بیچ میںجس طرح وہ کرتا ہے کہ رجیم کو انڈر پریشر کرے، شاید وہ کیپوچولیٹ کر جائے، یہ وہ آپٹکس کیلیے کر رہے تھے، یہ آبجیکٹیو نہیں تھا، رجیم چینج کے سابق تجربات آپ دیکھ لیں تو ان کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا، زیادہ تر افراتفری ہی پھیلی، ایران کو اگر وہ کرتے تو ان کو پتہ تھا کہ اگر وہ اس الجھن میں پڑے تو کافی مشکل ہو جائے گا، باقی رہی کہ اسرائیل نے ٹرمپ کو کس طرح قائل کیا آپ نے یہ ہمیشہ سے دیکھا ہے کہ امریکا اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے تو اس لیے بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ اسرائیل بہت کوشش کر رہاہے مگر جس طرح سے کوریوگراف کیا گیا اس اٹیک کو، غالباً یہ کافی عرصے سے طے شدہ منصوبہ تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہوا ہے
پڑھیں:
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔