ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو شدید نقصان پہنچا ہے، سربراہ سی آئی اے
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 جون2025ء)امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹ کلیف نے کہا ہے کہ قابل اعتماد انٹیلی جنس موجود ہے کہ امریکی حملوں سے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ کئی اہم تنصیبات تباہ ہوگئیں۔
(جاری ہے)
میڈیارپورٹس کے مطابق ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انتہائی قابل اعتماد اور درست ذرائع اور طریقے اس جائزے کو سپورٹ کرتے ہیں۔ریٹ کلیف کا کہنا تھا کہ ایران کو ان تنصیبات کو ازسرنو بنانے میں برسوں لگیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مزید انٹیلی جنس جمع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ مناسب فیصلے کرنیوالوں کو مکمل طور پر آگاہ کیا جاسکے اور جب ممکن ہوا عوام کو ان سے آگاہ کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔