قومی اسمبلی میں مالی سال 26-2025 کا بجٹ منظور، اپوزیشن کی تحاریک کثرت رائے سے مسترد
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 26-2025 کا بجٹ منظور کرلیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں فنانس بل کی شق وار منظوری دے دی گئی جبکہ اپوزیشن کی تمام تحاریک کثرت رائے سے مسترد کردی گئیں۔
اسپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی طرف سے کسٹمز ایکٹ، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس 2001، سیلریز اینڈ الاؤنس ایکٹ 1975 اور ٹیکس فراڈ میں ملوث تاجروں کی گرفتاری کے اختیارات کمیٹی کو دینے سے متعلق ترامیم بھی منظور کرلی گئیں۔
یہ بھی پڑھیے: ہمارے تمام مطالبات مان لیے گئے، بجٹ کو سپورٹ کررہے ہیں، بلاول بھٹو
اس سے قبل وفاقی کابینہ نے وزارت توانائی کےایجنڈے کی منظوری دیتے ہوئے پیٹرولیم لیوی کااختیارپیٹرولیم ڈویژن کو تفویض کرنے سمیت ترامیم کے ساتھ فائنانس بل کی بھی منظوری دے دی۔
ذرائع کے مطابق پیٹرولیم لیوی کا اختیار پیٹرولیم ڈویژن کو دینے کے فیصلے سے تیل و گیس کے شعبے میں پالیسی سازی مزید مؤثر ہونے کی توقع ہے، اس اقدام سے محصولات میں بہتری اور فیصلوں میں تاخیر ختم ہونے کی امید ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔