قومی ہاکی ٹیم کی پرولیگ میں شرکت کھٹائی میں پڑگئی، پابندی کا بھی خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
پاکستان ہاکی ٹیم کی انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کی پرو ہاکی لیگ میں شرکت مالی وسائل کی کمی کے باعث کھٹائی میں پڑسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے اسپورٹس بورڈ کی دعوت مسترد کردی، وجہ کیا بنی؟
انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو پرو ہاکی لیگ میں شرکت کا دعوت نامہ بھیجا ہے جس کے تحت پی ایچ ایف کو پہلا جواب جمعہ 27 جون کو دینا ہے لیکن پاکستان ہاکی فیڈریشن کی پرو لیگ میں شرکت مالی وسائل سےمشروط ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کو قومی ٹیم کو پرو لیگ میں بھجوانے کے لیے 50 کروڑ روپے سے زائد رقم درکار ہے اور اگر اس کا انتظام نہ ہوسکا تو پاکستان کی ایونٹ میں شرکت ممکن نہیں ہوسکے گی۔
مزید برآں پرو لیگ میں شرکت کی حامی بھرلینے کے بعد ٹیم نہ بھجوانے پر پاکستان ہاکی فیڈریشن پربھاری جرمانہ حتیٰ کہ پابندی بھی عائد ہوسکتی ہے۔
پرو ہاکی لیگ میں دنیا کی ٹاپ ٹیمیں شرکت کرتی ہیں اور اس میں شرکت سے پاکستان ہاکی ٹیم کی رینکنگ میں بہتری آئے گی۔
مزید پڑھیے: ایف آئی ایچ نیشنز کپ میں شاندار کارکردگی کے بعد قومی ہاکی ٹیم وطن واپس پہنچ گئی
ماضی میں پاکستان ہاکی ٹیم نے پرو ہاکی لیگ میں شرکت نہیں کی تھی جس کی وجہ سے پاکستان کی ہاکی رینکنگ 17ویں نمبر پر چلی گئی تھی۔
دریں اثنا پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے ڈائریکٹر جنرل یاسر پیرزادہ نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل رانا مجاہد کے ہمراہ جمعرات کو کی گئی پریس کانفرنس میں کہا کہ ہاکی قومی کھیل ہے اور اس کے فروغ کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں تاہم ہاکی کا موازنہ کرکٹ سے نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ کرکٹ پر کیے جانے والے اخراجات کا کسی کھیل سے کوئی موازنہ نہیں ہے تاہم خواہش ہے کہ ہر فیڈریشن کی معاونت کریں۔
یاسر پیرزادہ نے کہا کہ ہاکی پرو لیگ کھیلنے کے لیے کثیر فنڈز کی ضرورت ہے جو اسپورٹس بورڈ کی استعداد سے زیادہ ہے لیکن ہم سے جو کچھ بھی ہوسکا وہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہاکی فیڈریشن کی تجویز کا جائزہ لیا جائے گا۔
اس موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل رانا مجاہد نے کہا کہ پاکستان نے ہاکی کا آخری ٹورنامنٹ اچھا کھیلا اور ایف آئی ایچ نیشنز ہاکی کپ میں پاکستان کی پرفارمنس تسلی بخش رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کل تک ٹیم کا اعلان کیا جائے گا جو چین میں ٹورنامنٹ کھیلے گی۔
مزید پڑھیں: ایف آئی ایچ نیشنز ہاکی فائنل: نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 2-6 سے شکست دیدی
رانا مجاہد نے کہا کہ پرو لیگ کے اخراجات بہت زیادہ ہیں جس کے لیے نجی شعبہ کے تعاون کے خواہشمند ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ایچ ایف اپنی کوششیں بھی کررہا ہے اور ہم نے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے صدر سے رابطہ کیا ہے اور تمام صورتحال پر وقت مانگا ہے کیونکہ اگر لیگ میں شرکت کی حامی بھرنے کے بعد اگر شریک نہیں ہونگے تو انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن پابندی بھی لگا سکتی ہے۔
سیکرٹری جنرل رانا مجاہد نے کہا کہ حکومت اور اسپورٹس بورڈ کی گائیڈ لائنز کے خلاف پاکستان ہاکی فیڈریشن کوئی کام نہیں کرے گی۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ موجودہ صورتحال پر وزیراعظم محمد شہباز شریف ہماری مدد کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان اسپورٹس بورڈ قومی ہاکی ٹیم ہاکی پرو لیگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان اسپورٹس بورڈ قومی ہاکی ٹیم ہاکی پرو لیگ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن پاکستان ہاکی فیڈریشن پرو ہاکی لیگ میں انہوں نے کہا کہ قومی ہاکی ٹیم اسپورٹس بورڈ لیگ میں شرکت فیڈریشن کی رانا مجاہد پرو لیگ ہے اور کی پرو کے لیے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔