UrduPoint:
2026-07-24@03:39:04 GMT

پاکستان کے 85ویں قومی دن کی مناسبت سے کویت میں تقریب

اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT

پاکستان کے 85ویں قومی دن کی مناسبت سے کویت میں تقریب

کویت سٹی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون 2025ء) پاکستان کے 85 ویں قومی دن کی مناسبت سے، کویت میں پاکستان کے سفارت خانے نے 24 جون 2025 کو ایک استقبالیہ کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر کویت کے وزیر تجارت و صنعت، عزت مآب خليفة عبدالله العجيل نے مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ تقریب میں 350 سے زائد معزز مہمانوں نے شرکت کی، جن میں شاہی خاندان کے افراد، کویت کے اعلیٰ سول اور فوجی حکام، کاروباری رہنما، میڈیا کے نمائندے، سفارتی کور کے ارکان، اور پاکستانی کمیونٹی کے نمایاں افراد شامل تھے۔

تقریب کا آغاز پاکستان اور کویت کے قومی ترانوں سے ہوا۔ مہمانِ خصوصی نے سفارتی کور کے ڈین کے ہمراہ روایتی کیک کاٹنے کی تقریب میں حصہ لیا۔ اپنے خطاب میں، سفیر ڈاکٹر ظفر اقبال نے یومِ قومی کی تاریخی اہمیت اور پاکستان اور کویت کے درمیان دیرینہ دوستی کو اجاگر کیا۔

(جاری ہے)

 انہوں نے کویت کی دانشمندانہ، متوازن اور اصولی خارجہ پالیسی کی تعریف کی، خاص طور پر اس کے مکالمے، تحمل اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا۔

انہوں نے خطے اور اس سے باہر امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے کویت کی کوششوں کے لیے پاکستان کی حمایت کی توثیق کی۔ پاکستان اور کویت گہرے تاریخی تعلقات رکھتے ہیں، جو باہمی حمایت اور قریبی تعاون سے نمایاں ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعلقات میں حالیہ برسوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کویت میں 93,000 افراد پر مشتمل پاکستانی کمیونٹی کا ملک کی ترقی میں اہم کردار ہے، اور انسانی وسائل کے شعبے میں تعاون مستقبل قریب میں مزید وسعت پانے کی توقع ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کویت کے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم