بلدیہ عظمیٰ کراچی کا بجٹ منظور، تمام یونینز کیلیے مساوی ترقیاتی کاموں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل نے نئے مالی سال 2025-26 کے بجٹ کو تفصیلی بحث و مشاورت کے بعد کثرتِ رائے سے منظور کر لیا، جس میں شہر کی تعمیر و ترقی کے لیے 55 ارب 28 کروڑ روپے سے زائد کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
بجٹ اجلاس کی صدارت میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کی، جب کہ ان کے ساتھ ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد اور میونسپل کمشنر افضل زیدی بھی موجود تھے۔
مرتضیٰ وہاب نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ نئے مالی سال کا یہ بجٹ شہر میں یکساں ترقی کو یقینی بنائے گا اور تمام 246 یونین کمیٹیوں میں بغیر کسی تفریق کے ترقیاتی اسکیمیں نافذ کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کراچی والوں سے کیے گئے وعدے پورے کریں گے اور اس بجٹ کے تحت ہر علاقے کو ترقی کے عمل میں برابر شریک کیا جائے گا۔
بجٹ اجلاس کی ایک اہم بات یہ تھی کہ تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کونسل اراکین کو اظہارِ رائے کا موقع دیا گیا، جسے تمام حلقوں نے سراہا۔ پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی نے کہا کہ بجٹ پر کھلی بحث خوش آئند عمل ہے اور تنقید ضرور ہونی چاہیے مگر وہ تعمیری ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہر کے 71 فیصد ترقیاتی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں اور اگر کرپشن کا کوئی مسئلہ ہے تو اسے مل بیٹھ کر حل کیا جانا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ ان کی جماعت کی طرف سے بجٹ میں بہتری کے لیے تجاویز دی گئیں اور وہ چاہتے ہیں کہ شہر میں انصاف کے ساتھ ترقیاتی کام ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد صرف تنقید نہیں بلکہ اصلاح ہے تاکہ شہریوں کو بہتر سہولیات میسر آسکیں۔
نجمی عالم نے کہا کہ ہر ٹاؤن اور یونین کمیٹی کو مساوی فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں اور ہر یوسی کے لیے 2کروڑ روپے کی اسکیمیں بجٹ میں شامل کی گئی ہیں۔ انہوں نے نالوں میں پلاسٹک بیگز کی بھرمار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک بیگز پر پابندی پر ہر یوسی میں عمل درآمد ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ بیچ ریزورٹس جیسی شہری سہولیات میں کونسل ممبران کے لیے رعایت ہونی چاہیے تاکہ وہ خود بھی سہولتوں سے مستفید ہوں اور ان کا معائنہ کر سکیں۔
ڈپٹی پارلیمانی لیڈر نے اپنی گفتگو میں وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت نے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں کیے گئے اور سابق میئر مصطفیٰ کمال بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ سب سے زیادہ مالی امداد انہیں سندھ حکومت اور آصف علی زرداری سے ملی تھی۔
میئر کراچی نے آخر میں تمام کونسل اراکین کو بجٹ کی منظوری پر مبارک باد دی اور امید ظاہر کی کہ آئندہ سال کے دوران تمام بلدیاتی نمائندے عوامی فلاح کے منصوبوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو جدید اور خوبصورت شہر بنانے کے لیے تمام جماعتوں اور نمائندوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
بجٹ سیشن کے اختتام پر سٹی کونسل کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔