Islam Times:
2026-07-24@11:49:01 GMT

ایک اور شرمندگی امریکہ کے نام

اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT

ایک اور شرمندگی امریکہ کے نام

اسلام ٹائمز: الحمدللہ! آج ایران نہ صرف کامیاب ہوا ہے، بلکہ ایک سپر پاور کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھر کر آیا ہے۔ ایران کی روحانی قیادت نے صرف ایران ہی نہیں بلکہ امت مسلمہ کی قیادت کا مقام بھی حاصل کر لیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر ولی امرالمسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای، صدر مملکت ایران ڈاکٹر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ سید محمد عباس عراقچی، افواج، پاسداران انقلاب نے قیادت کو جو قوت اور اعتماد دیا، اس کے صلے میں آج جتنے بھی تجزیہ کار اور غیرت مند انسان ہیں، وہ ایران کو مبارکباد دیتے نظر آتے ہیں۔ تحریر: سید منیر حسین گیلانی

امریکہ اور اسرائیل نے بڑے تکبر کیساتھ ایران پر جنگ مسلط کی، مگر اپنے مقاصد حاصل نہ کرسکے۔ صلح پسند، پُرامن ایرانی قوم پر مسلط کردہ جنگ میں مسلح افواج کے چیف، پاسداران انقلاب کے کمانڈر، بشمول ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔ جس سے بین الاقوامی تجزیہ کاروں کو موضوع مل گیا کہ ایران اب ختم ہوگیا اور امریکہ نے اپنے مقاصد حاصل کرلئے ہیں کہ اعلیٰ عہدیداروں کو شہید کر دیا گیا تو اب باقی ناتجربہ کار لوگ کیا کریں گے۔ اپنے تئیں وہ ٹھیک کہتے تھے، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، پھر ایک دن گزرنے کے بعد ہی جب ایران نے اسرائیل پر بھرپور حملہ کیا تو تجزیہ کاروں اور اسرائیل کے سرپرستوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ جب اسرائیل مقاصد حاصل نہ کرسکا تو 12 دن کی جنگ میں امریکہ جیسی شیطانی قوت کو بھی اپنی پوری طاقت کیساتھ ایران کے جوہری اثاثوں پر حملہ کرنا پڑا۔

پھر ذرائع ابلاغ میں خوشیاں مناتے ہوئے امریکہ نے کہا کہ ہم نے ایران کو ایٹمی قوت بننے میں بڑی رکاوٹ ڈال کر اس کے جوہری اثاثوں کو تباہ کر دیا ہے۔ ایران اب ایٹمی قوت نہیں بن سکے گا، جبکہ توانائی کا عالمی ادارہ امریکہ کے دعووں کی نفی کرتا ہے۔ بھرپور تیاری کیساتھ جب ایران نے اسرائیلی حملوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے اپنا بھرپور اور مضبوط دفاع کیا، تو اپنے تو اپنے غیر بھی حیرت زدہ ہوگئے۔ قطر کے العدید ایئربیس پر امریکہ جیسی شیطانی قوت کے علاقائی مرکز سینٹ کام جیسی اہم اسٹریٹیجک پوزیشن پر بھی حملہ ہوا تو امریکہ اور اس کے حواریوں کو احساس ہوا کہ ایران اپنے دفاع میں جوابی حملہ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ پھر اسی دوران اسرائیل پر بھی بھرپور حملے جاری رکھے، جس کے نتیجے میں اسرائیل کی مسلسل تباہی اور خود پر حملوں کے بعد امریکی صدر نے قطر کے امیر سے درخواست کی کہ ایران کیساتھ ہماری جنگ بندی کر وا دیں، جنہوں نے اعلیٰ ایرانی حکام سے رابطہ کرکے امریکی صدر کی استدعا اور خواہش پہنچائی، جس پر ایرانی قیادت نے مثبت جواب دیا۔

ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل اپنی جارحیت اور حملے بند کرے تو ہم بھی جواب بھی حملے نہیں کریں گے۔ جس پر قطر کے حکمران نے سیز فائر کا اشارہ دیا۔ لیکن مجھ سمیت ہر ذی شعور شخص کو حیرت اس وقت ہوئی، جب دیکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسا بداعتماد شخص بڑی ڈھٹائی سے یہ کہتے ہوئے اعلان کرتا ہے کہ ایران اور اسرائیل میرے پاس آئے اور سیز فائر کی درخواست کی، جو میں نے قبول کرلی۔ پھر اس نے دو معروف امریکی ٹی وی چینلز سی این این اور ایم ایس این بی سی پر بھی جھوٹی خبر کا الزام عائد کیا کہ وہ امریکہ کے بی ٹو طیارے کی طرف سے ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے بارے غلط خبریں دے رہے ہیں۔ دکھ ہوتا ہے کہ اتنے بڑے ملک کے بڑے عہدے پر فائز شخص بھی اتنا جھوٹ بول سکتا ہے اور اتنی مکاری کے ساتھ صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا جھوٹا اعلان کرسکتا ہے کہ میں نے ایران کی درخواست پر سیز فائر کروایا ہے۔

جب میں تاریخ کے اوراق پلٹتا ہوں تو مجھے ویتنام کی جنگ میں امریکی فوج لمبے عرصے تک جنگ کرنے کے بعد شکست کھا کر بھاگتی نظر آتی ہے۔ میرے سامنے وہ وقت بھی ہے، جب امریکہ نے کچھ مفادات حاصل کرنے کیلئے کوریا پر حملہ کیا مگر اسے ناکامی ہوئی۔ کوریا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ مجھے نزدیک ترین تاریخ پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں کہ نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور اپنے شیطانی مقاصد پورے نہ کرسکا، لمبی جنگ کے بعد اسے بڑی شرمندگی کیساتھ اسلحہ چھوڑ کر افغانستان سے نکلنا پڑا۔ میں عراق پر بھی گفتگو کرنے سے پہلے بتانا چاہتا ہوں کہ اسی امریکہ نے عراق کو ایران پر حملہ کرنے کیلئے اُکسایا۔ عرب ممالک سمیت امریکہ نے صدام حسین کی ہر طرح کی مدد بھی کی، لیکن اپنے مقاصد حاصل نہ کرسکا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایرانی قیادت اور عوام کے جذبہ قربانی نے امریکی سازش کو ناکام کیا۔

پھر اسی امریکہ نے کیمیائی ہتھیاروں کے جھوٹے الزام پر عراق پر بھی حملہ کر دیا۔ معصوم عراقی عوام کو لمبا عرصے زیر عتاب رکھا، امریکہ اپنے مقاصد حاصل تو نہ کرسکا، لیکن عراق کے عوام اور ان کی ترقی کو کئی سالوں پیچھے دھکیل دیا گیا۔ پھر لیبیا میں بھی امریکہ نے اپنے شیطانی ایجنڈے کے لیے سازشوں کا چال پھیلایا، جس میں یورپی ممالک بھی امریکہ کے ساتھی تھے۔ قذافی کا نظام حکومت الٹ پلٹ کر دیا گیا۔ حکومت ترقی کی راہ پر گامزن تھی، مختلف گروہوں کو اقتدار کا لالچ دے کر خانہ جنگی کا سماں پیدا کیا گیا۔ ترقی یافتہ ملک لیبیا کے سیاسی گروہوں میں اقتدار کی لالچ میں باہمی جنگ شروع ہوئی اور آج تک لیبیا میں امن و ترقی قائم نہیں ہوسکی۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکی حکمران نہ صرف عقل سے عاری ہیں بلکہ وہ تاریخ کو بھی نہیں جانتے کہ سابقہ ناکام تجربات سے کچھ سبق سیکھتے ہوئے کرہ ارض میں امن قائم کرنے کیلئے مثالی اچھے اقدامات کرتے اور دنیا انہیں اچھے لفظوں میں یاد رکھتی۔

اسرائیل اور امریکہ نے ایران کی جنگ میں اپنے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے اپنے منہ پر ناکامی کی ایک اور سیاہی مل لی ہے۔ الحمدللہ! آج ایران نہ صرف کامیاب ہوا ہے، بلکہ ایک سپر پاور کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھر کر آیا ہے۔ ایران کی روحانی قیادت نے صرف ایران ہی نہیں بلکہ امت مسلمہ کی قیادت کا مقام بھی حاصل کر لیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر ولی امرالمسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای، صدر مملکت ایران ڈاکٹر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ سید محمد عباس عراقچی، افواج، پاسداران انقلاب نے قیادت کو جو قوت اور اعتماد دیا، اس کے صلے میں آج جتنے بھی تجزیہ کار اور غیرت مند انسان ہیں، وہ ایران کو مبارکباد دیتے نظر آتے ہیں، جبکہ وہ امریکی صدر، یورپی ممالک کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ ان کی تعریف میں کوئی ایک بھی مثبت جملہ لکھا جائے، اس لئے وہ منفی کردار کے طور پر ہی جانے جائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے امریکہ نے امریکہ کے کہ ایران ایران کی نہ کرسکا کرنے کی دیا گیا پر حملہ حملہ کر کر دیا کے بعد اور اس پر بھی

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران