چین اور ایکواڈور کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
چین اور ایکواڈور کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے پر اتفاق WhatsAppFacebookTwitter 0 27 June, 2025 سب نیوز
بیجنگ : چین کے صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں ایکواڈور کے صدر نوبوآ سے ملاقات کی، جو چین میں منعقدہ سمر دیووس فورم میں شرکت کے لیے آئے تھے۔جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطابق شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ رواں سال چین اور ایکواڈور کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 45ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات بہتر انداز میں فروغ پا رہے ہیں۔ چین ایکواڈور کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کیا جائے اور حقیقت کا رنگ دیا جا سکے۔شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور ایکواڈور کو باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی اچھے دوست اور مشترکہ ترقی کے شراکت دار بننا چاہیے
۔ دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے بنیادی مفادات اور خدشات سے متعلق حمایت کو یقینی بناتے ہوئے مختلف شعبوں اور سطحوں پر تبادلوں کو مضبوط بنانا چاہیے، اور حکمرانی کے تجربات کا تبادلہ بڑھانا چاہیے۔ کلیدی تعاون کے منصوبوں کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے، تعلیم، ثقافت، میڈیا اور نوجوانوں کے شعبوں میں تبادلوں کو فروغ دیا جائے۔ چین-لاطینی امریکہ فورم کے چوتھے وزارتی اجلاس کے نتائج پر عمل درآمد کیا جائے، اور چین-لاطینی امریکہ ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو آگے بڑھایا جائے۔
ایکواڈور کے صدر نوبوآ نے کہا کہ ایکواڈور چین کے ساتھ تعلقات کو وسیع ترکرنے کا خواہاں ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔ملاقات کے بعد، دونوں ممالک کے صدور مشترکہ طور پر “عوامی جمہوریہ چین اور دی ریپبلک آف ایکواڈور کی حکومتوں کے درمیان بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی مشترکہ تعمیر کے تعاون کے منصوبے” پر دستخط کی تقریب میں بھی شریک ہوئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراوساکا ایکسپو کے چائنا پویلین میں 6 لاکھ سے زائد غیر ملکیوں کی شرکت اوساکا ایکسپو کے چائنا پویلین میں 6 لاکھ سے زائد غیر ملکیوں کی شرکت سمر ڈیووس فورم کا مقصد کھلے پن کے مشترکہ پیغام کو فروغ دینا تھا، چینی میڈیا سی ایم جی کی دستاویزی فلم’’ٹسکانی ٹریول اِن اے نیور اینڈنگ رینیسانس ‘‘اٹلی میں ریلیز اے آئی آئی بی کے ارکان کی تعداد 57 سے بڑھ کر 110 تک پہنچ گئی ہے، چینی وزیر اعظم چین اٹلی کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 55ویں سالگرہ منانے کے لیے خصوصی آرٹ نمائش کا روم میں انعقاد چین اٹلی سفارتی تعلقات کے قیام کی 55ویں سالگرہ منانے کے لیے چائنا میڈیا گروپ کے زیر اہتمام افرادی و ثقافتی تقریب کا انعقادCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔