سندھ ایکسائز اور ٹیکسٹیشن ڈیپارٹمنٹ نے گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی بایومیٹرک تصدیق کی آخری تاریخ 14 اگست تک بڑھا دی ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر آصف علی بھٹی نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی بایومیٹرک رجسٹریشن کو مقررہ تاریخ سے قبل مکمل کریں۔ان کا کہنا تھا یہ آخری توسیع ہوگی اور اس تاریخ کے بعد مزید وقت نہیں دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں ہائبرڈ گاڑیوں کے خریداروں کے لیے بڑی خبر، حکومت نے اہم فیصلہ کرلیا

انہوں نے زور دیا کہ جو گاڑی اس وقت مالک کے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہے، اسے فوراً ٹرانسفر اور بایومیٹرک تصدیق کا عمل مکمل کرنا ہوگا۔ کسی بھی صورت میں تاریخ ختم ہونے کے بعد، خریدار اور فروخت کنندہ دونوں کے لیے گاڑی کی منتقلی کے دوران بایومیٹرک تصدیق لازمی ہو جائے گی۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سندھ میں 5 ملین سے زیادہ موٹرسائیکل مالکان نے ابھی اپنی آفیشل نمبر پلیٹیں وصول نہیں کیے ہیں، صوبے میں تقریباً 6.

5 سے 7 ملین موٹرسائیکل رجسٹرڈ ہیں، صرف 1.6 ملین پلیٹیں جاری کی گئی ہیں۔

ایکسائز اور ٹیکسٹیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ایک موٹرسائیکل نمبر پلیٹ کا معیاری فیس 2,450 روپے ہے۔ اس عمل کو آسان بنانے کے لیے، کراچی میں متعدد تقسیم کے کاؤنٹر فعال ہیں، جن میں سِوک سینٹر، ایگزیکٹو آفس کلفٹن، اور عوامی مرکز شامل ہیں۔ شہری آن لائن بھی نمبر پلیٹ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: وفاقی وزیر خزانہ کا امپورٹڈ 5 سال پرانی گاڑی پر 40 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کا اعلان

آصف علی بھٹی نے نشاندہی کی کہ جہاں ایجنٹ مافیا کے اثر کو روکنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ نئی ڈیزائن کردہ نمبر پلیٹوں میں جدید سیکیورٹی خصوصیات شامل ہیں، جو انہیں رات کے وقت بھی نگرانی کے کیمروں کے ذریعے دیکھنے کے قابل بناتی ہیں۔

اگرچہ ڈیپارٹمنٹ کا دعویٰ ہے کہ پلیٹیں عموماً ایک ہفتے کے اندر جاری کر دی جاتی ہیں، مگر کئی شہری ایک مہینے یا اس سے بھی زیادہ تاخیر کی شکایت کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بایومیٹرک تصدیق کے لیے

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا