WE News:
2026-07-24@01:58:57 GMT

غزہ میں ایک ہفتے کے اندر جنگ بندی متوقع ہے،ٹرمپ کا دعویٰ

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

غزہ میں ایک ہفتے کے اندر جنگ بندی متوقع ہے،ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ غزہ میں جنگ بندی اگلے ایک ہفتے کے اندر ہو جائے گی۔

انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ حال ہی میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے کوششیں کرنے والے افراد سے بات کر چکے ہیں۔

ان کے اس بیان کے ساتھ ہی یہ خبریں سامنے آئیں کہ اسرائیلی وزیر اسٹریٹجک امور رون ڈرمر اگلے ہفتے واشنگٹن کا دورہ کریں گے، جہاں وہ غزہ اور ایران کے معاملات پر بات چیت کریں گے۔

ٹرمپ اسرائیل پر زور دے رہے ہیں کہ وہ حماس کے خلاف جاری جنگ کو جلد ختم کرے اور ابراہام معاہدوں کو مزید وسعت دی جائے۔

ٹرمپ نے غزہ کی صورتحال کو ’بہت خراب‘ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ امریکا نے غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن کو 3 کروڑ ڈالر کی امداد دی ہے، جو پچھلے ایک ماہ سے جنگی علاقوں میں خوراک کی تقسیم کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس میں نظریاتی طور پر شامل نہیں ہیں، لیکن لوگ مر رہے ہیں، اس لیے مدد کرنا ضروری ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ امداد چوری ہو رہی ہے لیکن انہوں نے غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن کے نئے نظام کو ’کافی بہتر‘ قرار دیا۔

تاہم یہ فاؤنڈیشن آئے دن اسرائیلی حملوں کے باعث شہری ہلاکتوں کے الزامات کی زد میں رہی ہے۔ بعض ممالک اس فاؤنڈیشن سے دور ہیں کیونکہ اس کے نظام کے تحت شہریوں کو خوراک حاصل کرنے کے لیے اسرائیلی افواج کے زیر قبضہ علاقوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کی سرپرستی میں جاری امدادی نظام میں لوٹ مار کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل غزہ میں امداد کی مقدار بڑھا دے تو یہ مسائل کم ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل حماس پر امداد چرانے اور اسے اپنے جنگجوؤں میں تقسیم کرنے کا الزام لگاتا ہے، جسے حماس مسترد کرتی ہے۔

گزشتہ ایک ماہ میں روزانہ صرف 56 ٹرک غزہ میں داخل ہو سکے ہیں، جو کہ ضروری امداد کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔

اسرائیل نے غزہ میں یہ کارروائی 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد شروع کی، جس میں 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

اب بھی 50 یرغمالی دہشتگردوں کی قید میں ہیں، جن میں سے 20 زندہ ہیں، 28 کی لاشیں موجود ہیں اور باقی کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ حماس ایک اسرائیلی فوجی کی لاش بھی سنبھالے ہوئے ہے جو 2014 میں مارا گیا تھا۔

غزہ میں حماس کی زیر انتظام وزارت صحت کا دعویٰ ہے کہ اب تک 56 ہزار سے زائد افراد ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں، تاہم یہ اعداد و شمار آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں اور اس میں عام شہریوں اور جنگجوؤں میں فرق نہیں کیا گیا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ 20,000 حماس جنگجو مار چکا ہے اور 1,600 دہشتگردوں کو 7 اکتوبر کے حملے کے دوران اسرائیل کے اندر ہلاک کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: رہی ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم