WE News:
2026-06-03@04:42:10 GMT

غزہ میں ایک ہفتے کے اندر جنگ بندی متوقع ہے،ٹرمپ کا دعویٰ

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

غزہ میں ایک ہفتے کے اندر جنگ بندی متوقع ہے،ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ غزہ میں جنگ بندی اگلے ایک ہفتے کے اندر ہو جائے گی۔

انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ حال ہی میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے کوششیں کرنے والے افراد سے بات کر چکے ہیں۔

ان کے اس بیان کے ساتھ ہی یہ خبریں سامنے آئیں کہ اسرائیلی وزیر اسٹریٹجک امور رون ڈرمر اگلے ہفتے واشنگٹن کا دورہ کریں گے، جہاں وہ غزہ اور ایران کے معاملات پر بات چیت کریں گے۔

ٹرمپ اسرائیل پر زور دے رہے ہیں کہ وہ حماس کے خلاف جاری جنگ کو جلد ختم کرے اور ابراہام معاہدوں کو مزید وسعت دی جائے۔

ٹرمپ نے غزہ کی صورتحال کو ’بہت خراب‘ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ امریکا نے غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن کو 3 کروڑ ڈالر کی امداد دی ہے، جو پچھلے ایک ماہ سے جنگی علاقوں میں خوراک کی تقسیم کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس میں نظریاتی طور پر شامل نہیں ہیں، لیکن لوگ مر رہے ہیں، اس لیے مدد کرنا ضروری ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ امداد چوری ہو رہی ہے لیکن انہوں نے غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن کے نئے نظام کو ’کافی بہتر‘ قرار دیا۔

تاہم یہ فاؤنڈیشن آئے دن اسرائیلی حملوں کے باعث شہری ہلاکتوں کے الزامات کی زد میں رہی ہے۔ بعض ممالک اس فاؤنڈیشن سے دور ہیں کیونکہ اس کے نظام کے تحت شہریوں کو خوراک حاصل کرنے کے لیے اسرائیلی افواج کے زیر قبضہ علاقوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کی سرپرستی میں جاری امدادی نظام میں لوٹ مار کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل غزہ میں امداد کی مقدار بڑھا دے تو یہ مسائل کم ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل حماس پر امداد چرانے اور اسے اپنے جنگجوؤں میں تقسیم کرنے کا الزام لگاتا ہے، جسے حماس مسترد کرتی ہے۔

گزشتہ ایک ماہ میں روزانہ صرف 56 ٹرک غزہ میں داخل ہو سکے ہیں، جو کہ ضروری امداد کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔

اسرائیل نے غزہ میں یہ کارروائی 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد شروع کی، جس میں 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

اب بھی 50 یرغمالی دہشتگردوں کی قید میں ہیں، جن میں سے 20 زندہ ہیں، 28 کی لاشیں موجود ہیں اور باقی کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ حماس ایک اسرائیلی فوجی کی لاش بھی سنبھالے ہوئے ہے جو 2014 میں مارا گیا تھا۔

غزہ میں حماس کی زیر انتظام وزارت صحت کا دعویٰ ہے کہ اب تک 56 ہزار سے زائد افراد ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں، تاہم یہ اعداد و شمار آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں اور اس میں عام شہریوں اور جنگجوؤں میں فرق نہیں کیا گیا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ 20,000 حماس جنگجو مار چکا ہے اور 1,600 دہشتگردوں کو 7 اکتوبر کے حملے کے دوران اسرائیل کے اندر ہلاک کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: رہی ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان