حماس نے حق و باطل کی کشمکش کو نئے موڑ پر پہنچادیا‘ راشد نسیم
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)مرکزی رہنما جماعت اسلامی راشد نسیم نے کہا ہے کہ دنیا میں ظلم و جبر کا نظام اپنے زوال کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ مظلوموں اور کمزوروں کے ابھرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ ڈیڑھ سال قبل غزہ میں مجاہدین حماس نے نصف صدی سے جاری اسرائیلی مظالم کے خلاف تاریخی مزاحمت کی، جس نے حق و باطل کی کشمکش کو ایک نئے موڑ پر پہنچا دیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیڈرل بی ایریا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ناظم علاقہ توصیف اقبال، یوسی چیئرمین، نائب چیئرمین، دیگر کونسلر حضرات اور مقامی افراد نے بڑی تعداد میں تقریب میں شرکت کی۔راشد نسیم نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی حالیہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل سے پاکستان نے بھارت کے نام نہاد ’’ریجنل پاور‘‘ کے تصور کو خاک میں ملا دیا۔ اسی طرح ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل کی ناقابل تسخیر ہونے کے زعم کو چکناچور کر دیا، باوجود اس کے کہ امریکا اس کی پشت پناہی کر رہا تھا۔ راشد نسیم نے کہا کہ اگر دیگر مسلم ممالک بھی ایران کا ساتھ دیتے تو ممکن تھا کہ اسی سال اسرائیل کا خاتمہ ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم اُمت اپنی فکری، اخلاقی اور روحانی اصلاح کرے، اور دین فطرت، اسلام کی طرف لوٹے۔ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسولؐ پر مکمل اعتماد رکھتے ہوئے مغربی تہذیب سے مرعوب نہ ہوں، اور اپنی سیرت و کردار کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔