۔2022ء کے بعد کی پالیسیاں حالات خراب ہونے کی وجہ ہیں، پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250927-08-23
پشاور (نمائندہ جسارت) پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ 2022ء کے بعد کی پالیسیاں حالات خراب ہونے کی وجہ ہیں۔صوبائی دارالحکومت میں جلسے کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے سلمان اکرم راجا، اسد قیصر اور جنید اکبر جلسہ گاہ پہنچے۔ اس موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی کال پر کل پشاور میں جلسہ ہوگا، ہم ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں گے۔انہوں نے کہا کہ تیراہ کے واقعے پر عمران خان افسردہ ہیں۔2022ء کے بعد کی پالیسیوں کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں، دہشت گردوں سے مقابلہ کرنا ہے، ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں، کل کا جلسہ بربریت کے خلاف احتجاج ہوگا، ہم صحافیوں کو پیکا ایکٹ کے تحت جاری کیے گئے نوٹس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ محکوم ہے، تحریک انصاف کا بنیادی مقصد آئین و قانون کی حکومت ہے۔پریس کانفرنس میں اسد قیصر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل کا جلسہ عمران خان کی رہائی کے لیے ہے، ہم امن کی بات کرتے ہیں، جب روس آیا، یہاں جنگ شروع ہوئی، اس صوبے کی معیشت کو نقصان ہوا، کلاشنکوف کلچر بڑھا۔انہوں نے کہا کہ21 آپریشن ہوئے، کیا امن قائم ہوا؟۔ افغانستان کو پھر نئی جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے، اگر نئی جنگ ہوتی ہے، قوم اس کا حصہ نہیں ہوگی، فیلڈ مارشل اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں کیا ہوا، ابھی باتیں سامنے نہیں آئیں، نواز لیگ 10 سیٹیں جیت جائیں ہم اپنی شکست تسلیم کرلیں گے۔پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر کا کہنا تھا کہ ہمیں پنجاب میں فسطائیت کا سامنا ہے، ہم پنجاب میں جلسہ کرنا چاہتے ہیں، کل کا جلسہ ثابت کرے گا قوم ہمارے ساتھ ہے، حاکمیت عوام کے ووٹ سے ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔