نکاسی آب کامؤثرنظام اور سڑکیں فوری مرمت کی جائیں‘مراد علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250927-08-16
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ شہر کراچی کی بارش سے متاثرہ اندرونی سڑکوں کی فوری مرمت و تعمیر نو کی جائے اور ساتھ ہی ایسا نکاسی آب کا مؤثر نظام قائم کیا جائے تاکہ مستقبل میں سڑکوں کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ بات انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ جس میں صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی، جام خان شورو، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، پرنسپل سیکرٹری آغا واصف، کمشنر کراچی حسن نقوی اور سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد شریک تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے حالیہ مون سون بارشوں سے شہر کی اندرونی سڑکوں کو پہنچنے والے بڑے پیمانے پر نقصان پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ناقص نکاسی آب کے باعث صورتحال مزید خراب ہوئی۔ انہوں نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اور ٹاؤن انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ بلدیات محکمہ کی نگرانی میں سڑکوں کی بحالی کے منصوبے تیار کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر خراب سڑک کی مرمت یا مکمل تعمیر نو کی جائے اور کوئی بھی منصوبہ نکاسی آب کے نظام کے بغیر منظور نہیں ہوگا۔ مزید برآں، وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ بلدیات کو شہر میں صفائی کے کاموں کو تیز کرنے کی بھی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ بہتر صفائی ستھرائی اور سڑکوں کی حالت کراچی کو قابلِ رہائش بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بارش کے پانی کے جمع ہونے یا گندے نکاسی ا?ب کے اْبلنے کو ترقیاتی کوششوں میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ماضی کے مون سون سے سبق سیکھنا ہوگا اور پائیدار سڑکوں کی تعمیر، مربوط نکاسی آب کے نیٹ ورک اور بروقت بلدیاتی خدمات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کی زیرصدارت کراچی کے مسائل پر اعلی سطحی اجلاس ہورہا ہے
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نکاسی ا ب کے نے کہا کہ سڑکوں کی انہوں نے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔