جامعہ کراچی نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی ڈگری منسوخ کر دی
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: جامعہ کراچی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کا ایل ایل بی میں اندراج منسوخ کر دیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی ڈگری منسوخ کرتے ہوئے ان پر تین سال کے لیے پابندی عائد کر دی ہے، اس حوالے سے یونیورسٹی کے رجسٹرار عمران احمد صدیقی کی جانب سے ڈگری منسوخی کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یونیورسٹی کے رجسٹرار عمران احمد صدیقی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ جامعہ کی سینڈیکیٹ کے 31 اگست 2024 کے اجلاس میں قرارداد نمبر 6 کے تحت کیا گیا، ناجائز ذرائع کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں یہ طے پایا کہ طارق محمود ولد قاضی محمد اکرم امتحان میں ناجائز ذرائع کے استعمال میں پائے گئے، جس پر ان کا نتیجہ اور ڈگری منسوخ کرتے ہوئے انہیں تین سال کے لیے ڈی بار کردیا گیا۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ فیصلے کی اطلاع اسلام آباد ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرارز، چیف سیکرٹری سندھ، سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز، ایچ ای سی پاکستان، سندھ ایچ ای سی، سندھ بار کونسل، پرنسپل اسلامیہ لاء کالج سمیت متعلقہ اداروں کو بھی فراہم کر دی گئی ہے۔
جامعہ کراچی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ طارق محمود ولد قاضی محمد اکرم پر امتحانات میں غیر منصفانہ ذرائع استعمال کرنے کے الزامات ثابت ہونے پر ان کا نتیجہ اور ڈگری منسوخ کی گئی، انہیں آئندہ تین برس تک کسی بھی یونیورسٹی یا کالج میں داخلہ لینے یا امتحان دینے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ طارق محمود کبھی بھی اسلامیہ لاء کالج کراچی کے باقاعدہ طالب علم نہیں رہے۔
یہ فیصلہ جامعہ کراچی کی جانب سے تعلیمی ضابطہ اخلاق اور شفافیت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جامعہ کراچی ڈگری منسوخ کی جانب سے ہائی کورٹ گیا ہے
پڑھیں:
اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دیدیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے 5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
مزید :