Islam Times:
2026-07-24@02:08:13 GMT

امریکی رائے عامہ ایران پر حملے کی مخالف ہے، سروے رپورٹس

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

امریکی رائے عامہ ایران پر حملے کی مخالف ہے، سروے رپورٹس

امریکی میڈیا ذرائع کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر امریکی ایران پر حملے کی مخالفت کر رہے ہیں جبکہ ریپبلکن پارٹی کے اندر اندرونی تقسیم اور علاقائی جنگ کے بارے میں خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ این بی سی نیوز کے سروے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 22 جون کو ایران کی متعدد جوہری تنصیبات پر جارحانہ فضائی حملہ کرنے کے فیصلے نے امریکی عوام کو تقسیم کر دیا ہے اور دونوں جماعتوں کے اتحادوں میں دراڑیں واضح کر دی ہیں۔ 13  جون کو صیہونی رژیم نے واضح جارحیت کا ثبوت دیتے ہوئے ہوئے ایران کی جوہری تنصیبات، شہری اور فوجی مراکز پر حملے کیے جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار، ایٹمی سائنسدان اور بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ اس کے بعد رہبر معظم انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے قوم کے نام ایک پیغام میں ایران پر حملوں کو جرم قرار دیا اور فرمایا کہ صیہونی رژیم کو تلخ اور بھیانک انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسرائیلی جارحیت کے جواب میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اعلان کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ان حملوں کے جواب میں مقبوضہ علاقوں میں فوجی اہداف کے خلاف آپریشن "وعدہ صادق 3" شروع کر دیا ہے۔ اس آپریشن میں تل ابیب اور حیفا سمیت مقبوضہ علاقوں میں متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس سے بھاری نقصان ہوا اور تل ابیب کو امریکہ کا رخ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ امریکہ نے جارحانہ کارروائی کرتے ہوئے تین ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری بھی کی لیکن بالآخر 12 دن کے بعد ایران نے دشمن کو جنگ بندی اختیار کرنے پر مجبور کر ڈالا۔
 
این بی سی نیوز کے سروے کے مطابق 45 فیصد افراد نے فضائی حملوں کی مخالفت کی جبکہ 38 فیصد نے اس کی حمایت کی۔ مزید 18 فیصد امریکیوں نے کہا کہ وہ تو حملوں کی حمایت کرتے ہیں اور نہ ہی مخالفت۔ یہ سروے پیر سے بدھ تک انجام پا رہے تھے اور اس دوران ایران نے خطے میں امریکی فوجی اڈے پر جوابی میزائل حملہ کیا۔ امریکی معاشرہ ایران پر جارحانہ امریکی فضائی حملوں کے مسئلے میں تقسیم نظر آتا ہے۔ ڈیموکریٹس میں 77 فیصد ان حملوں کی مخالفت کرتے ہیں اور 61 فیصد ان کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ اس کے برعکس 78 فیصد ریپبلکن ان حملوں کی حمایت کرتے ہیں جبکہ 60 فیصد ان کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ آزاد شہری بہت زیادہ تذبذب کا شکار ہیں۔ 45 فیصد مخالفت کرتے ہیں 21 فیصد حمایت کرتے ہیں اور 34 فیصد غیر جانبدار ہیں جو کہ عام آبادی کے تناسب سے تقریباً دوگنا ہے۔ ایران پر امریکی حملوں کی تیاری نے ریپبلکن پارٹی میں اختلافات نمایاں کر دیے ہیں۔ دائیں بازو کے مبصر ٹکر کارلسن اور ٹیکساس کے سینیٹر ٹڈ کروز کے درمیان تلخ کلامی سے یہ اختلاف مزید واضح ہو جاتا ہے۔ کارلسن نے دلیل دی کہ ایران پر حملہ صدر ٹرمپ کے "امریکہ فرسٹ" نعرے سے غداری ہے۔
 
اگرچہ ایران پر امریکی حملوں کی مخالفت کرنے والوں کی تعداد حمایت کرنے والوں سے زیادہ ہے، لیکن اکثریت (60 فیصد) ایران کا جوہری پروگرام برقرار رہنے کی صورت میں فوجی کارروائی جاری رکھنے کی حمایت کرتی ہے۔ ابتدائی انٹیلی جنس اندازوں سے پتہ چلتا ہے کہ حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو صرف تین سے چھ ماہ تک پیچھے کر دیا ہے حالانکہ حتمی تشخیص کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے ان اندازوں کو مسترد کر دیا ہے۔ مجموعی طور پر 26 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ امریکہ کو تمام فوجی آپشنز پر غور کرنا چاہیے۔ مزید 34 فیصد فوجی کارروائی جاری رکھنے کی حمایت کرتے ہیں لیکن صرف فضائی حملوں کی صورت میں جبکہ باقی 41 فیصد کا خیال ہے کہ امریکہ کو ایران میں مزید فوجی کارروائی نہیں کرنی چاہیے۔ ترقی پسندوں (بائیں بازوں) میں سے 75 فیصد کا خیال ہے کہ امریکہ کو ایران میں مزید کوئی فوجی کارروائی نہیں کرنی چاہیے۔ دریں اثنا، روایتی ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی تقریباً یکساں طور پر تقسیم ہیں، 54 فیصد مزید کارروائی کے مخالف اور 45 فیصد ایران کا جوہری پروگرام جاری رہنے کی صورت میں محدود کارروائی کے حق میں ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حمایت کرتے ہیں فوجی کارروائی کی مخالفت مخالفت کر کر دیا ہے ایران پر حملوں کی کی حمایت

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی