ایران؛ اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے کمانڈرز اور ایٹمی سائنسدانوں کی نماز جنازہ ادا
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے 60 کے قریب اعلیٰ فوجی کمانڈر، بیلسٹک میزائل پروگرام کے سربراہ، جوہری سائنسدانوں، خواتین اور بچوں کی نماز جنازہ کے لیے تہران کی سڑکوں پر عوام کا سیلاب اُمڈ آیا۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے "آئی آر آئی بی" کے مطابق نماز جنازہ میں شرکت کے لیے ہزاروں شہری انقلاب اسکوائر پہنچ گئے اور فرط جذبات سے ایرانی پرچم میں لپٹے تابوتوں کو چھونے اور چومتے رہے۔
شہریوں نے ایرانی پرچم اُٹھائے ہوئے تھے اور فضا میں حب الوطنی کے نغمے گونج رہے تھے۔ بے حد جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان بھی ہزاروں سوگواروں میں شامل تھے۔ اسٹیج پر کئی اعلیٰ فوجی افسران کی تصاویر آویزاں تھیں جن میں شہید میجر جنرل حسین سلامی اور جنرل محمد باقری کی نمایاں تصاویر شامل تھیں۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے "تسنیم" کے مطابق شہریوں نے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں اور اس دوران امریکا و اسرائیل مخالف نعرے بھی لگائے گئے۔
تقریب تہران کے معروف اسلامی انقلاب اسکوائر (انقلاب چوک) میں صبح 8 بجے شروع ہوئی، جہاں ہزاروں سوگوار سیاہ لباس پہنے ایرانی پرچم لہراتے اور شہداء کی تصاویر اٹھائے ہوئے موجود تھے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے جنرل حسین سلامی، جنرل امیر علی حاجی زادہ، میجر جنرل محمد باقری اور جوہری سائنسدان محمد مہدی تہرانچی سمیت دیگر شہداء کے تابوتوں کی ویڈیو نشر کی گئی۔
جنازے میں شامل تابوتوں میں چار خواتین اور چار بچوں کے تابوت بھی شامل تھے جنہیں اسرائیلی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی حکومت نے سرکاری دفاتر بند رکھے تاکہ سرکاری ملازمین جنازے میں شریک ہو سکیں۔ یہ جنگ بندی کے بعد اعلیٰ کمانڈروں کی پہلی عوامی تدفین کی تقریب تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔