Jasarat News:
2026-06-03@08:20:33 GMT

صدر نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سنیارٹی طےکردی

اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی سنیارٹی کا تعین کر دیا ہے۔

اس سلسلے میں وزارت قانون و انصاف کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق صدر مملکت نے سنیارٹی کی منظوری سپریم کورٹ کے 19 جون کے فیصلے کی روشنی میں دی ہے۔

دستاویز کے مطابق جسٹس سرفراز ڈوگر اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج ہوں گے، جبکہ جسٹس سرفراز ڈوگر سمیت دو ججز کا اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلہ مستقل بنیادوں پر کیا گیا ہے۔

صدر مملکت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سرفراز ڈوگر پہلے، جسٹس محسن اخترکیانی دوسرے سینئر جج قرار دیےگئے ہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب سنیارٹی میں تیسرے نمبر پر ہوں گے، جسٹس طارق محمود جہانگیری سنیارٹی میں چوتھے نمبر پر ہوں گے، جسٹس بابر ستار سنیارٹی میں پانچویں، جسٹس سردار اعجاز اسحاق چھٹےنمبر پر ہیں۔

جسٹس ارباب طاہر سنیارٹی میں ساتویں نمبر پر ہوں گے، جسٹس ثمن رفعت سنیارٹی میں آٹھویں، جسٹس خادم سومرو نویں نمبر پر ہوں گے، جسٹس اعظم خان سنیارٹی میں دسویں، جسٹس محمدآصف 11ویں اور جسٹس انعام امین منہاس سنیارٹی میں سب سے آخری 12ویں نمبر ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائی کورٹ نمبر پر ہوں گے سنیارٹی میں کورٹ کے

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • ویزہ اوور سٹے پر ڈی پورٹ ہونے والوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر قانونی قرار
  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے