پاکستان گلیشیئر پگھلاؤ اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
پاکستان میں تقریباً 13,000 گلیشیئرز ہیں اور گرمی کی وجہ سے تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ ان کا پانی دریاؤں سے مل کر سیلابی صورتحال پیدا کر رہا ہے، جس سے ڈھانچے، نقل و حمل کے راستے، مشینری اور انسانی جانوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا کے شمالی علاقوں میں گلیشیئر پھٹنے کا خدشہ، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
2025 کی عالمی آب و ہوا رپورٹ (Climate Rate Index) کے مطابق، 2022 کے ڈیٹا کی بنیاد پر پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار پایا جہاں ایک تہائی حصہ زیرِ آب آیا، 33 ملین متاثر ہوئے، 1,700 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً 15 ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان گزرا۔
آل جزیرہ کے مطابق پاکستان میں ڈوبنے والے علاقے نہ صرف گھروں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ تاریخی آثار، سکول، ہسپتال، پینے کا صاف پانی اور صحت کی سہولیات بھی تباہ ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:’موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کی معیشت کو چاٹ رہی ہیں‘
کہا جا سکتا ہے کہ یہ بحران صرف موسمیاتی نہیں بلکہ سماجی، اقتصادی اور سیاسی ناہمواری کا آئینہ بھی ہے۔
یہ رپورٹ اس عالمی حقیقت کی گواہ ہے کہ پاکستان جیسے کم ذمہ دار ممالک زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں، اور عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ موسمی انصاف کے تقاضوں کو سنجیدگی سے قبول کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الجزیرہ پاکستان کلائمنٹ گلیشیئر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الجزیرہ پاکستان کلائمنٹ گلیشیئر
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔