اسلام آباد کے شہریوں کا اسرائیل کی جارحیت اور ایران کی فتح پر ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
شہریوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے بلااشتعال حملہ کرکے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی اور انسانی حقوق کو نظر انداز کیا، مگر جمہوری اسلامی ایران نے جرأت مندانہ انداز میں اس کا منہ توڑ جواب دیا۔ متعلقہ فائیلیںاسلام آباد کے مقامی افراد نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر رکھا تھا، اور اس جنگ بندی سے امن کی ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ ان کے مطابق خطے میں استحکام صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریقین تحمل اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں۔ شہریوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے بلااشتعال حملہ کرکے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی اور انسانی حقوق کو نظر انداز کیا، مگر جمہوری اسلامی ایران نے جرأت مندانہ انداز میں اس کا منہ توڑ جواب دیا۔ ان کے مطابق عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ دوہرا معیار ترک کرے اور مظلوم اقوام کی حمایت میں مؤثر کردار ادا کرے تاکہ دنیا میں حقیقی امن قائم ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔