سکھر میں مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ ذکر امام حسین (ع) اور مجالس عزاء کو جرم قرار دیکر عزاداروں کیخلاف وسیع پیمانے پر ایف آئی آرز درج کرنا نہ صرف شرمناک عمل ہے، بلکہ آئین پاکستان اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ ذکر امام حسین علیہ السلام سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عظیم عبادت ہے۔ ذکر حسین علیہ السلام کو جرم قرار دے کر ایف آئی آرز درج کرنا شرمناک عمل اور آئین پاکستان سے بغاوت ہے۔ پنجاب حکومت عزاداروں کے خلاف جعلی مقدمات کا اندراج بند کرے۔ یہ بات انہوں نے سکھر میں سالانہ مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میدان کربلا میں دین اسلام کی بقا کے لئے جو عظیم قربانی پیش کی، وہ تاریخ انسانی میں بے مثال ہے۔ کربلا ہر دور کے انسان کے لئے مشعل راہ اور نظام حیات ہے۔ عصر حاضر میں کربلا کے پیروکار یزید وقت کے سامنے سینہ سپر ہیں۔ ان کی شجاعت اور استقامت نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے پنجاب حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے امام حسین علیہ السلام کی عزاداری اور مجالس عزاء کے خلاف ظالمانہ ایس او پیز اور بے جا رکاؤٹیں ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں عزاداروں کے خلاف وسیع پیمانے پر مقدمات کے اندراج کا آغاز انتہائی تشویشناک ہے۔

علامہ ڈومکی نے کہا کہ پنجاب حکومت ابن زیاد اور عمر سعد کے نقش قدم پر چلنے سے گریز کرے۔ ذکر امام حسین علیہ السلام اور مجالس عزاء کو جرم قرار دے کر عزاداروں کے خلاف وسیع پیمانے پر ایف آئی آرز درج کرنا نہ صرف شرمناک عمل ہے، بلکہ آئین پاکستان اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجالس، جلوس اور عزاداری امام حسین علیہ السلام عظیم عبادت ہے، اور ہم کسی صورت بھی اس ظلم اور جبر کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علماء، خطباء اور ذاکرین کو چاہئے کہ پنجاب میں جاری اس مجرمانہ اور ظالمانہ رویے کے خلاف آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ مجالس عزاء کے خلاف مقدمات کا اندراج آئین پاکستان سے بغاوت اور بنیادی انسانی و شہری حقوق پر حملہ ہے۔ وفاقی حکومت کے ایک وزیر کی جانب سے جاری کردہ خط، جس میں وزیراعظم پاکستان کو متوجہ کیا گیا ہے کہ عزاداری کے خلاف مقدمات حقوق انسانی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے کروڑوں شیعہ سنی مسلمان عاشقان اہل بیت اور عزادار اپنے آئینی، قانونی اور مذہبی حق کا ہر فورم پر دفاع کریں گے، اور عزاداری سیدالشہداء علیہ السلام کے راستے میں کھڑی کی گئی ہر رکاؤٹ کو مسترد کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امام حسین علیہ السلام انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان پنجاب حکومت علامہ مقصود مجالس عزاء کہ پنجاب ڈومکی نے کے خلاف

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان