کسانوں کا گندم ، کپاس کاشت نہ کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک: صدر پاکستان کسان اتحاد خالد محمود کھوکھر نے کہا ہے کہ ہم بتا رہے ہیں اگلے سال گندم اور کپاس کاشت نہیں ہو گی۔
صدر پاکستان کسان اتحاد خالد محمود کھوکھر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلیوں میں صرف لڑائیاں ہوتی ہیں کام نہیں ہوتا۔
پاکستان میں آئندہ کپاس نہیں ہو گی کیونکہ کپاس کے ریٹ پر کسان کے گھر صف ماتم بچھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوٹاش آج 10 ہزار روپے کی ہے، اور ہماری کاسٹ آف پروڈکشن کئی سو فیصد تک بڑھ چکی ہے۔
انڈیا کی فلم لاہور میں چل گئی کیونکہ یہ فلم پنجابی زبان کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کپاس زرمبادلہ کمانے کا 65 فیصد ہے لیکن کاشتکار آج مایوس ہوچکا ہے۔
کوئی فصل ایسی نہیں جس میں کاشتکار نے کمایا ہو، گندم ہماری اہم ترین فصل ہے لیکن ہم بتا رہے ہیں اگلے سال گندم اور کپاس کاشت نہیں ہو گی۔
خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کسانوں کا معاشی قتل میرا فیصلہ تھا۔
انہوں نے کاشتکاروں کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔ ہمارے ملک میں فوڈ سیکیورٹی دوسرے نمبر پر ہے۔
قوتِ خرید 58 فیصد کم ہوگئی، سابق بینکر شبلی فراز کی سینئیربینکر وزیرخزانہ پر تنقید
انہوں نے کہا کہ حکمران تنخواہیں بڑھانے کے لیے ایک ہوجاتے ہیں۔
پوری دنیا میں ایگرکلچر کی تحقیق یونیورسٹیوں میں ہوتی ہے،لیکن ہمارے ملک میں ایگری کلچر میں تحقیق کے لیے الگ ادارے بنے ہیں۔
نواز شریف ایگری کلچر یونیورسٹی مالی طور پر تباہ ہوچکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے نہیں ہو
پڑھیں:
بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے اپنی اور صوبائی مشیر خزانہ کی بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی سے بجٹ پر رہنمائی حاصل کرنا ضروری‘ اس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ علیمہ خان کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں مزید دیوار سے لگانے کی کوشش اور ملاقات کا حق نہ دیا گیا تو 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے میں حکومت عمران خان کی ہے، اسے ان کے سوا کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس نہ موثر داخلہ پالیسی ہے اور نہ ہی خارجہ پالیسی۔ آنے والا وفاقی بجٹ عوام پر ایک معاشی ایٹم بم ہوگا۔