UrduPoint:
2026-07-24@12:33:08 GMT

بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں میں ’ڈینگی بخار کی تباہی‘

اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT

بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں میں ’ڈینگی بخار کی تباہی‘

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 29 جون 2025ء) طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے غیر متوقع موسم اور وسیع تر ڈیلٹا علاقے میں، جہاں برہم پترا اور گنگا کا پانی سمندر سے ملتا ہے، صاف پینے کے پانی کی شدید کمی اس اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔

رکیب الاسلام راجن نے بتایا کہ ان کی دو سالہ بیٹی اپنی ماں زرین کو ڈھونڈتی رہتی ہے، جو جون کے شروع میں جنوبی علاقے باریسال میں ڈینگی سے انتقال کر گئی تھیں، ''زرین کو تیز بخار ہوا… ان کا بلڈ پریشر گر گیا اور پھر وہ سانس نہ لے سکیں‘‘۔

31 سالہ راجن کا مزید کہنا تھا، ''ہماری بیٹی ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک اسے ڈھونڈتی رہتی ہے۔‘‘

ڈینگی بخار ہو جائے تو شدید صورتوں میں اس سے اندرونی یا منہ اور ناک سے خون بہنے لگتا ہے۔

(جاری ہے)

انسٹی ٹیوٹ آف ایپیڈیمولوجی، ڈیزیز کنٹرول اینڈ ریسرچ (آئی ای ڈی سی آر) کے مطابق باریسال میں اس سال ملک بھر کے 7,500 ڈینگی کیسز میں سے تقریباً نصف رپورٹ ہوئے ہیں۔

اس سال باریسال میں پانچ افراد ڈینگی سے ہلاک ہوئے، جبکہ 170 ملین کی آبادی والے اس ملک میں کل 31 اموات ریکارڈ کی گئیں۔

یہ تعداد سن 2023 کے مہلک پھیلاؤ سے اب بھی بہت کم ہے، جب جنوبی ایشیا کے اس ملک میں 17 سو سے زائد افراد ہلاک اور دو لاکھ سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔

باریسال کے برگنا ضلع میں ہسپتال مریضوں سے بھرا ہوا ہے۔ باریسال کے ہیلتھ چیف شیمول کرشنا مونڈل نے کہا کہ یہ ''بدترین صورت حال ہے، جو ہم دیکھ رہے ہیں۔

‘‘

برگنا کے 250 بستروں والے سرکاری ہسپتال میں 200 سے زائد ڈینگی مریضوں کا علاج ہو رہا ہے۔ کرشنا مونڈل کا مزید کہنا تھا، ''ہم بستر بھی فراہم نہیں کر سکے، مریض فرش پر لیٹ کر علاج کروا رہے ہیں۔‘‘

جہانگیر نگر یونیورسٹی میں بیماریوں کے ماہر کبیرالبشیر نے کہا کہ صاف پانی کی کمی ''ایک بڑی وجہ‘‘ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ بارش کا پانی کنٹینرز میں ذخیرہ کرتے ہیں، جو مچھروں کے لیے پسندیدہ حالات ہیں، ''پانی کی تقسیم کا نظام تقریباً موجود نہیں ہے۔

‘‘ ماحولیاتی تبدیلیاں اور ڈینگی کا پھیلاؤ

صاف پانی کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ ہے لیکن ماحولیاتی تبدیلی اسے مزید بدتر کر رہی ہے۔ سرکاری سائنسدانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بڑھتا ہوا سمندری پانی بنگلہ دیش کے نشیبی علاقوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے، جبکہ طاقتور طوفان سمندری پانی کو اندرون ملک لے جا رہے ہیں، جس سے کنویں اور جھیلوں کا پانی کھارا ہو رہا ہے۔

غیر متوقع بارشوں نے حالات کو مزید مشکل بنا دیا ہے، کیونکہ لوگ، جب بھی ممکن ہو، بارش کا پانی ذخیرہ کرتے ہیں۔

آئی ای ڈی سی آر کے مشیر اور صحت عامہ کے ماہر مشتاق حسین کہتے ہیں کہ پانی کے یہ ذخیرہ کرنے والے برتن مچھروں کی افزائش کے لیے بہترین جگہ ہیں، ''ہمیں کہیں بھی پانی جمع ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ یہ بنیادی اصول ہونا چاہیے، لیکن ایسا ہو نہیں رہا۔

‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ''زیادہ گرمی اور غیر متوقع بارشوں کی وجہ سے خطرہ بڑھ رہا ہے، جو مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار ہیں۔‘‘

بنگلہ دیش میں 1960 کی دہائی سے ڈینگی کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں لیکن سن 2000 میں یہ وباء شدت اختیار کر گئی۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ڈینگی اور دیگر مچھروں سے پھیلنے والے وائرس تیزی سے اور دور تک پھیل رہے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا کی نصف آبادی اب ڈینگی کے خطرے میں ہے، جس کے ہر سال 100 سے 400 ملین کیس سامنے آتے ہیں۔

اپنی بیوی کے غم میں ڈوبے راجن کو ڈر ہے کہ مزید اموات ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے مقامی حکام پر ڈینگی کی روک تھام میں ناکامی کا الزام لگایا، ''ڈینگی نے میری بیوی کو چھین لیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ کتنے اور قطار میں ہیں… لیکن میں صفائی کی کافی سرگرمیاں نہیں دیکھ رہا۔‘‘

ادارت: افسر اعوان

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کا پانی پانی کی رہے ہیں رہا ہے

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر

پشاور:

خیبر پختونخوا میں 19 جولائی سے اب تک ہونے والی تیز بارشوں اور فلش فلڈ سے گھروں کی چھتیں و دیواریں گرنے اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے کے باعث 28 افراد جاں بحق اور 29 افراد زخمی ہوگئے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مجموعی طور پر جاں بحق افراد میں 10 مرد، 15 بچے اور 3 خواتین جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، 9 خواتین اور 7 بچے شامل ہیں۔ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 47 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 37 گھروں کو جزوی اور 10 گھر مکمل منہدم ہوئے۔

حادثات صوبے کے مختلف اضلاع پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال اپر و لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، کوہستان اپر، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔

پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد امدادی سامان فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عوام سےاپیل کی جاتی ہے کہ بلا وجہ سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگاہی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • لاہور: گھر کے بیسمنٹ میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر 1 شخص جاں بحق
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران