کراچی میں مختلف بخار کے کیسز تیزی سے بڑھنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں مختلف اقسام کے بخار کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ زرایع کے مطابق سول اسپتال کے ایمرجنسی انچارج ڈاکٹر عرفان صدیقی نے بتایا کہ وائرل بخار کے کیسز میں 15 سے 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سول اسپتال میں روزانہ تقریباً 300 مریض موسمی بخار، ملیریا اور ڈینگی کے علاج کے لیے آ رہے ہیں جبکہ جناح اسپتال میں بھی یومیہ 100 سے زائد مریض رپورٹ ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر عرفان صدیقی نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر معیاری خوراک سے پرہیز کریں، ماسک پہننے اور ہاتھ دھونے کو معمول بنائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ گندگی اور آلودگی بخار اور انفیکشن پھیلنے کی بڑی وجوہات ہیں، لہٰذا متاثرہ افراد ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اینٹی بائیوٹک استعمال نہ کریں۔
یہ صورتحال ماہرین صحت کے مطابق وبائی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے اگر احتیاط نہ برتی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔