بارش میں حیسکو کی ناقص کاکاردگی قابل مذمت ہے ،احسان ابڑو
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان پیپلز پارٹی ضلع حیدرآباد کے ترجمان احسان ابڑو نے حیدرآباد میں دو روزہ بارشوں کے اسپیل کے گزر جانے کے بعد بھی شہر و گردونواح میں بجلی مسلسل عدم فراہمی اور حیسکو کی ناقص کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے اسے وفاقی حکومت کی سندھ دشمنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ، بارشوں کو مکمل ہوئے تین روز گزر گئے مگر آج بھی شہر کے اکثر علاقے بجلی سے محروم ہیں، حالیہ بارشوں میں حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور اس کے ذیلی ادارے واسا کی کارکردگی قابلِ ستائش رہی، میئر حیدرآباد، ضلعی انتظامیہ اور ایچ ایم سی کی پوری ٹیم شہر سے نکاسی آب اور عوام کو تکالیف سے بچانے کے معاملات میں انتھک کوششوں میں میں مصروف نظر آئی لیکن ان کی ساری کاوشوں کو حیسکو اپنی بدترین کارکردگی اور نااہلیت سے ناکام بنانے کی کوششیں کرتا رہا، واسا کے پمپنگ اسٹیشنز جہاں شہر کی صورتحال کو بہتر کرنے میں جتے رہے وہیں حیسکو نے شہریوں کو بجلی سے محروم رکھ کر قدرتی رحمت کو زحمت میں تبدیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، وفاقی حکومت حیسکو کے معاملات مسلسل عدم دلچسپی سے کام لیکر مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہو رہی ہے، حیسکو چیف کی مستقل اور ٹیکنیکل بنیادوں پر تعیناتی بھی کئی ماہ سے کھٹائی میں پڑی ہوئی ہے جس کی وجہ سے بھی حیسکو کی کارکردگی پہ بہت برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مون سون کی بارشوں کا عوام بڑی شدت سے انتظار کرتے ہیں مگر دو بوندیں پڑتے ہی جب وہ کئی کئی گھنٹے حبس اور شدید گھٹن میں بجلی سے محروم ہو جاتے ہیں تو ابرِ رحمت انہیں ابرِ زحمت لگنا شروع ہو جاتی ہے۔ حیسکو انتظامیہ اس وقت حیدرآباد سمیت آدھے سندھ کی عوام سے وفاقی حکومت کی کسی دشمنی کا بد لہ چکانے میں لگی ہوئی ہے ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حیسکو کے معاملات میں فوری مداخلت کرے اور حیدرآباد کی عوام کو سرکاری عذاب سے نجات دلائیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی حکومت
پڑھیں:
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں عالمی فٹبال کے کئی نامور ستاروں کو پورے ایونٹ میں بہترین کھیل کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منتخب ٹیم میں ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی، فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے اور ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو فرنٹ لائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔
مڈفیلڈ میں ورلڈ کپ کے گولڈن بال کے فاتح اور اسپین کے کپتان روڈری ، انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم اور فرانس کے مائیکل اولیسے کو جگہ دی گئی ہے، جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
دفاعی لائن میں کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ اسپین کے عالمی چیمپئن مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو ، فرانس کے ڈایو اوپامیکانو اور ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹینیز بھی دفاع کا حصہ ہیں۔
فیفا کے مطابق ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا انتخاب کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی، ٹیم پر اثراندازی اور پورے ایونٹ کے دوران مستقل بہترین کھیل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب فیفا نے ورلڈ کپ کے اختتام پر نئی عالمی رینکنگ بھی جاری کر دی ہے۔ نئی عالمی چیمپئن اسپین ایک درجہ ترقی کے بعد دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گئی، جبکہ رنر اپ ارجنٹائن ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے نمبر پر چلی گئی۔
رینکنگ میں فرانس تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ برازیل اور مراکش ایک، ایک درجہ ترقی کے ساتھ بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔
ادھر کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال دو درجے تنزلی کے بعد ساتویں نمبر پر آ گئی، جبکہ میزبان میکسیکو نے ورلڈ کپ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت چار درجے ترقی کرکے ٹاپ ٹین میں جگہ بنا لی۔
ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ناروے کی ٹیم نے بھی نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 12 درجے ترقی کی اور عالمی رینکنگ میں 19ویں پوزیشن حاصل کر لی۔