اسرائیلی عدالت نے نیتن یاہو کے کرپشن ٹرائل کو دو ہفتے کیلئے مؤخر کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
یہ فیصلہ اسوقت آیا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے خلاف مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کیس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی عدالت نے وزیرِاعظم نیتن یاہو کے کرپشن ٹرائل کو دو ہفتے کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ یروشلم ڈسٹرکٹ کورٹ نے نیتن یاہو کو سفارتی اور قومی سلامتی کے امور کی وجہ سے حاضری سے استثنیٰ دے دیا۔ یہ فیصلہ اس وقت آیا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے خلاف مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کیس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد اسرائیلی عدالت کا فیصلہ سامنے آیا، جس میں کہا گیا کہ امریکی امداد کا فیصلہ بھی اس کیس کے نتیجے پر منحصر ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی عدالت نے دو روز قبل نیتن یاہو کی سماعت مؤخر کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی، لیکن اس کے بعد جب نئے سفارتی و قومی امور کی وجہ سے سماعت کا مؤخر کیا گیا، تو اس بات نے مزید عالمی توجہ حاصل کی۔ نیتن یاہو پر تین مقدمات میں رشوت، دھوکا دہی اور اعتماد شکنی کے الزامات ہیں، جن کے نتیجے میں ان کی سیاسی شہرت اور اسرائیلی حکومت کے مستقبل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی عدالت نے نیتن یاہو نیتن یاہو کے کے خلاف
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔