data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

محکمہ محنت کے ذیلی ادارے سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن میں بدانتظامی اپنے عروج پر ہے، سال 2024/25 میں کنٹری بیوشن کا ہدف 22 ارب روپے رکھا گیا تھا لیکن سیسی اس کو حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا اور 10 ارب سے زائد کے تاریخی خسارے کا سامنا ہے۔ دوسری جانب سیسی محنت کشوں کی رجسٹریشن کا ٹارگٹ جو 8 لاکھ پچاس ہزار محنت کشوں کی رجسٹریشن کا رکھا گیا اس کو بھی حاصل نہ کرسکا اس وقت تک بامشکل 6 لاکھ محنت کش ہی سیسی میں رجسٹرڈ ہیں، چار سال قبل نادرا سے کیے گئے ایک معاہدہ کے مطابق دو سال میں تمام رجسٹرڈ مزدوروں کو ڈیجیٹل بینظیر مزدور کارڈ جاری کرنے تھے، اس پروجیکٹ پر اب تک تقریباً دو ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں، اور چھ لاکھ میں سے بامشکل ایک لاکھ پچاس ہزار محنت کشوں کو ہی بینظیر مزدور کارڈ کا اجراء ہوسکا، اس حوالے وزیر اعلیٰ سندھ اور چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری بھی صوبائی وزیر محنت کے ساتھ میٹنگ کرچکے ہیں اور پروجیکٹ کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے انھیں اس ہدف کو یکم مئی 2025 تک حاصل کرنے کی آخری تاریخ دی گئی تھی جس کو گزرے دو ماہ ہوچکے ہیں۔ انتظامی طور پر صورتحال بہت خراب ہے کئی افسران بیک وقت کئی پوسٹوں پر تعینات ہیں، جیسے ڈائریکٹر پروکیورمنٹ اور ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کا چارج نادر کنسارو کے پاس ہے، 19 گریڈ کے جونیئر ڈاکٹرز کو 20 گریڈ کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی پوسٹ پر تعینات کیا ہوا ہے، سیسی رولز اور سندھ ہائی کورٹ کے واضح احکامات کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے جونیئر افسران کو اہم پوسٹوں تعینات کیا گیا ہے۔ گریڈ 18 اور 19 گریڈ کی پوسٹوں پر جونیئر افسران کو غیر قانونی تعینات کیا گیا، سکھر ڈائریکٹوریٹ میں ایک 17 گریڈ کے سوشل سیکورٹی آفیسر کو گزشتہ ایک سال سے ڈائریکٹر کا چارج دیا ہوا ہے جبکہ کہ اس وقت وہ باقاعدہ ڈپٹی ڈائریکٹر بھی نہیں ہیں، ادارے کی آمدنی کی سب سے اہم جگہ ڈائریکٹوریٹ میں بدانتظامی سے برا حال ہے اور جونیئر ڈپٹی ڈائریکٹرز یا سوشل سیکورٹی افسران کو بطورِ ڈائریکٹر لگایا گیا ہے۔ تو پھر ادارے کا ٹارگٹ یا سالانہ ہدف کیسے پورا ہوگا، تیس لاکھ محنت کشوں کی رجسٹریشن کا ہدف کیسے حاصل ہوگا جس کا حکم سندھ ہائیکورٹ نے ستمبر 2024 میں دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن موجودہ مالی سال کے 11 ماہ گزرنے کے بعد اپنے سالانہ 22 ارب کے ہدف سے بہت پیچھے ہے اگر افسران کو میرٹ پر تعینات کیا جاتا تو سیسی کا بجٹ ٹارگٹ پورا کیا جاسکتا تھا ۔ اس وقت سیسی میں بدانتظامی کا یہ حال ہے کہ فیلڈ ڈائریکٹوریٹ میں جہاں ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کی پوسٹ ہے وہاں بیک وقت تین اور کہیں تو بیک وقت چار ڈپٹی ڈائریکٹرز تعینات ہیں۔
صوبائی وزیر محنت شاہد عبدالسلام تھیم، صوبائی سیکرٹری محنت رفیق قریشی، کو اس بدانتظامی کا فوری نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل سیکورٹی تعینات کیا افسران کو

پڑھیں:

سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری

بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
 سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
 سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔
 

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے