محکمہ داخلہ پنجاب میں سائبر پٹرولنگ اور کوئیک رسپانس سیل فعال کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
سوشل میڈیا پر فیک نیوز، اشتعال انگیزی اور مذہبی منافرت کے مواد کو مانیٹر اور رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ محکمہ داخلہ کا سائبر پٹرولنگ سیل چوبیس گھنٹے فعال ہے۔ سائبر پٹرولنگ سیل میں محکمہ داخلہ، ڈی جی پی آر اور پی آئی ٹی بی کے افسران تعینات ہیں۔ سائبر پٹرولنگ سیل تمام قابل اعتراض مواد سپیشل برانچ سے شئیر کرتا ہے۔ قابل اعتراض مواد کو پی ٹی اے سے بلاک کروانے کا ٹاسک سپیشل برانچ کو سونپا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ محکمہ داخلہ میں اپنی طرز کا پہلا سائبر پٹرولنگ اور کوئیک رسپانس سیل فعال کر دیا گیا۔ خصوصی سیل محرم الحرام میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور رپورٹنگ کا فریضہ سر انجام دے رہا ہے۔ سائبر پٹرولنگ سیل ڈیجیٹل میڈیا پر فرقہ وارانہ اور نفرت آمیز مواد کو مانیٹر اور رپورٹ کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر فیک نیوز، اشتعال انگیزی اور مذہبی منافرت کے مواد کو مانیٹر اور رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ محکمہ داخلہ کا سائبر پٹرولنگ سیل چوبیس گھنٹے فعال ہے۔ سائبر پٹرولنگ سیل میں محکمہ داخلہ، ڈی جی پی آر اور پی آئی ٹی بی کے افسران تعینات ہیں۔ سائبر پٹرولنگ سیل تمام قابل اعتراض مواد سپیشل برانچ سے شئیر کرتا ہے۔ قابل اعتراض مواد کو پی ٹی اے سے بلاک کروانے کا ٹاسک سپیشل برانچ کو سونپا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ رپورٹ کیے گئے اکاؤنٹس کیخلاف ایکشن کیلئے وفاقی وزرات داخلہ اور پی ٹی اے سے مستقل رابطے میں ہے۔
سائبر پٹرولنگ سیل محکمہ داخلہ کے مرکزی کنٹرول روم میں قائم کیا گیا ہے، سیل دیگر اضلاع سے بھی رپورٹس وصول کر رہا ہے۔ مرکزی کنٹرول روم میں محرم الحرام کے تمام بڑے جلوسوں اور مجالس کی لائیو مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ محکمہ داخلہ خصوصی طور پر تیار کردہ "محرم ای پورٹل" کے ذریعے تمام اضلاع سے منسلک ہے۔ پنجاب بھر میں نصب سیف سٹی اور ضلعی انتظامیہ کے کیمرے بھی کنٹرول روم سے منسلک ہیں۔ حکومت پنجاب صوبہ بھر میں سکیورٹی کیساتھ ساتھ ڈیجیٹل سپیس میں بھی امن و امان کے قیام کیلئے سرگرم ہے۔ سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سائبر پٹرولنگ سیل قابل اعتراض مواد محکمہ داخلہ سپیشل برانچ اور رپورٹ میڈیا پر مواد کو رہا ہے
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نیب سے متعلق تمام مقدمات آئینی عدالت سنے گی،نیب قانون میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ نیب مقدمات نہیں سن سکتی،نیب کے تمام مقدمات آئینی عدالت منتقل ہو گئے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سنایا۔
مزید :