محکمہ داخلہ نے 139سے زائد علماء کرام پر سندھ داخلے پر پابندی لگادی
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر(نمائندہ جسارت )محکمہ داخلہ سندھ نے محرم الحرام میں 139 سے زائد علمائے کرام و زاکرین کے سفر اور داخلے پر پابندی لگادی پابندی ساٹھ روز تک رہے گی۔ جن علمائے کرام و زاکرین پابندی لگائی گئی ہے جن علماء کرام پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان کا تعلق کراچی، حیدرآباد سکھر، دادو، شکارپور، جیکب آباد، لاڑکانہ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہرو فیروز، نواب شاہ و سندھ کے دیگر اضلاع سے ہے جبکہ پنجاب کے متعدد علمائے کرام و ذاکرین کے بھی سندھ میں داخلے اور تقاریر پر پابندی لگائی گئی ہے وزارت داخلہ کے مطابق یہ پابندیاں محرم الحرام میں امن قائم رکھنے کسی بھی اشتعال انگیزی سے بچنے اور فرقہ وارانہ مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے لگائی گئی ہے جن علمائے کرام پرپابندی لگائی گئی ہے ان میں سید عرفان حیدر، مولانا اورنگزیب فاروقی، مولانا خادم حسین ڈھلوں، مولانا مقصود احمد ڈومکی، منظور حسین سولنگی، مولانا ادریس ڈاہری، مولانا زمان ربانی، عمران عباس کاظمی، مولانا رب نواز حنفی،مولانا محمد عیسی،علی رضا شاہ ودیگر شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لگائی گئی ہے پر پابندی
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔