ترکی دہشتگردی کیخلاف پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے: صدر طیب اردوان
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان اور شہدا کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق صدر اردوان نے کہا کہ ترکی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمیشہ اپنے دوست اور بھائی پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے اس جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ترکی ان قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ہفتے کے روز شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں نے سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملہ کیا، جس میں 13 جوان شہید ہوگئے۔ جوابی کارروائی میں 14 دہشتگرد (خوارج) مارے گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشتگردوں نے بارود سے بھری گاڑی سے قافلے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملے کو ناکام بنایا۔
صدر اردوان نے اس حملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کا اتحاد ناگزیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔