’طلاق کے بعد مسلسل شراب پی کر جان دینے کی کوشش کی‘، عامر خان کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
عامر خان نے رینا دتہ سے طلاق کے بعد کی تکالیف شیئر کیں، جب وہ شراب نوشی اور ڈپریشن کا شکار ہوگئے تھے۔
بالی ووڈ سپر اسٹار عامر خان ہمیشہ اپنی ذاتی زندگی کو نجی رکھتے تھے، لیکن ایک موقع پر انہوں نے اپنی زندگی کے سب سے تاریک مرحلے کے بارے میں کھل کر بات کی ، اپنی پہلی بیوی رینا دتہ سے علیحدگی۔
ایک انٹرویو میں عامر خان نے بتایا کہ 2002 میں رینا سے طلاق کے بعد وہ شراب اور ڈپریشن کے سیاہ دور سے گزرے۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب وہ لگان کی کامیابی کے بعد ’مین آف دی ایئر‘ کے طور پر سراہا جا رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ حالانکہ ان کی فلم لگان کی کامیابی کے باوجود وہ خود کو کھویا ہوا اور ٹوٹا ہوا محسوس کرتے تھے انہوں نے اس دور کو اپنی زندگی کا سب سے تاریک مرحلہ قرار دیا۔
عامر نے اس دوران 1978 کی فلم ’گمان‘ کے گانے ’آپ کی یاد آتی رہی رات بھر‘ کے چند بول بھی گنگنائے اور ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
View this post on InstagramA post shared by The Lallantop (@thelallantop)
عامر اور رینا کی محبت کی کہانی پڑوسی ہونے سے شروع ہوئی تھی۔ وہ ایک دوسرے کو اپنی کھڑکیوں سے دیکھتے تھے اور عامر نے رینا کو متاثر کرنے کے لیے اپنے خون سے ایک خط لکھا تھا۔
ابتدا میں رینا نے انکار کیا تھا، لیکن بعد میں ہاں کہا اور دونوں نے خفیہ طور پر شادی کرلی۔ رینا نے عامر کی پہلی فلم ’قیامت سے قیامت تک‘ میں چھوٹی سی جھلک بھی دکھائی تھی۔
دونوں کی شادی 16 سال تک رہی اور ان کے دو بچے، جنید اور ایرا ہیں۔ ان کی شادی ’لگان‘ کے بعد ایک سال میں ختم ہوگئی۔
عامر نے ایک پچھلے انٹرویو میں ’کافی ود کرن‘ پر کہا تھا، ”رینا اور میں 16 سال تک شادی شدہ رہے۔ جب ہم الگ ہوئے تو یہ ہمارے لیے اور ہمارے خاندانوں کے لیے ایک تکلیف دہ مرحلہ تھا۔ ہم نے اس صورتحال کو جتنا ممکن ہو سکے بہتر طریقے سے نمٹنے کی کوشش کی۔“
انہوں نے یہ بھی کہا کہ علیحدگی کے باوجود وہ اور رینا ایک دوسرے کے لیے محبت اور احترام برقرار رکھتے ہیں۔
رینا سے طلاق کے بعد، عامر خان نے 2005 میں فلم ساز کرن راؤ سے شادی کی تھی اور دونوں کا ایک بیٹا، آزاد، ہے۔ تاہم، 2021 میں دونوں نے 16 سال کی شادی کے بعد علیحدگی کا اعلان کیا۔
عامر خان اس وقت اپنی 20 سال پرانی دوست گوری اسپرٹ کے ساتھ تعلق میں ہیں اور اپنی سابقہ بیویوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے اپنے بچوں کی مشترکہ پرورش کر رہے ہیں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: طلاق کے بعد انہوں نے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔