عامر خان نے رینا دتہ سے طلاق کے بعد کی تکالیف شیئر کیں، جب وہ شراب نوشی اور ڈپریشن کا شکار ہوگئے تھے۔

بالی ووڈ سپر اسٹار عامر خان ہمیشہ اپنی ذاتی زندگی کو نجی رکھتے تھے، لیکن ایک موقع پر انہوں نے اپنی زندگی کے سب سے تاریک مرحلے کے بارے میں کھل کر بات کی ، اپنی پہلی بیوی رینا دتہ سے علیحدگی۔

ایک انٹرویو میں عامر خان نے بتایا کہ 2002 میں رینا سے طلاق کے بعد وہ شراب اور ڈپریشن کے سیاہ دور سے گزرے۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب وہ لگان کی کامیابی کے بعد ’مین آف دی ایئر‘ کے طور پر سراہا جا رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ حالانکہ ان کی فلم لگان کی کامیابی کے باوجود وہ خود کو کھویا ہوا اور ٹوٹا ہوا محسوس کرتے تھے انہوں نے اس دور کو اپنی زندگی کا سب سے تاریک مرحلہ قرار دیا۔

عامر نے اس دوران 1978 کی فلم ’گمان‘ کے گانے ’آپ کی یاد آتی رہی رات بھر‘ کے چند بول بھی گنگنائے اور ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

View this post on Instagram

A post shared by The Lallantop (@thelallantop)


عامر اور رینا کی محبت کی کہانی پڑوسی ہونے سے شروع ہوئی تھی۔ وہ ایک دوسرے کو اپنی کھڑکیوں سے دیکھتے تھے اور عامر نے رینا کو متاثر کرنے کے لیے اپنے خون سے ایک خط لکھا تھا۔

ابتدا میں رینا نے انکار کیا تھا، لیکن بعد میں ہاں کہا اور دونوں نے خفیہ طور پر شادی کرلی۔ رینا نے عامر کی پہلی فلم ’قیامت سے قیامت تک‘ میں چھوٹی سی جھلک بھی دکھائی تھی۔

دونوں کی شادی 16 سال تک رہی اور ان کے دو بچے، جنید اور ایرا ہیں۔ ان کی شادی ’لگان‘ کے بعد ایک سال میں ختم ہوگئی۔

عامر نے ایک پچھلے انٹرویو میں ’کافی ود کرن‘ پر کہا تھا، ”رینا اور میں 16 سال تک شادی شدہ رہے۔ جب ہم الگ ہوئے تو یہ ہمارے لیے اور ہمارے خاندانوں کے لیے ایک تکلیف دہ مرحلہ تھا۔ ہم نے اس صورتحال کو جتنا ممکن ہو سکے بہتر طریقے سے نمٹنے کی کوشش کی۔“

انہوں نے یہ بھی کہا کہ علیحدگی کے باوجود وہ اور رینا ایک دوسرے کے لیے محبت اور احترام برقرار رکھتے ہیں۔

رینا سے طلاق کے بعد، عامر خان نے 2005 میں فلم ساز کرن راؤ سے شادی کی تھی اور دونوں کا ایک بیٹا، آزاد، ہے۔ تاہم، 2021 میں دونوں نے 16 سال کی شادی کے بعد علیحدگی کا اعلان کیا۔

عامر خان اس وقت اپنی 20 سال پرانی دوست گوری اسپرٹ کے ساتھ تعلق میں ہیں اور اپنی سابقہ بیویوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے اپنے بچوں کی مشترکہ پرورش کر رہے ہیں۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: طلاق کے بعد انہوں نے

پڑھیں:

ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے

وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ

جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔

اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس

عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت

متعلقہ مضامین

  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے، کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف