Jasarat News:
2026-07-24@03:33:16 GMT

قیام پاکستان بیسویں صدی کا معجزہ

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان اسلام کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے۔ تحریک ِپاکستان کے دوران کلمۂ طیبہ پورے برصغیر کی فضا میں گونج رہا تھا اور مسلمانوں کو ان کی تاریخ اور تہذیب سے مربوط کررہا تھا۔ مسلمانوں کو لگ رہا تھا کہ ان کی تاریخ اور تہذیب پاکستان کے عنوان سے ایک بار پھر نئی توانائی کے ساتھ زندہ ہونے والی ہے، ان کے صدیوں پرانے خواب پورے ہونے والے ہیں۔ لیکن معجزات کے منکر ہر زمانے میں موجود رہے ہیں۔ بیسویں اور اکیسویں صدی میں بھی معجزات کے منکرین موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان کے مطالبے کی بنیاد اسلام نہیں تھا۔ وہ اس سلسلے میں قائداعظم کی 11 اگست1947ء کی تقریر کا حوالہ دیتے ہیں جس میں قائداعظم نے کہا تھا کہ پاکستان میں جس طرح مسلمان مسجد جانے میں آزاد ہوں گے اسی طرح ہندو مندر اور عیسائی گرجا گھر جانے میں پوری طرح آزاد ہوں گے۔
تجزیہ کیا جائے تو قائداعظم کا یہ فرمان اسلام کی روح کے عین مطابق ہے۔ اسلام انفرادی اور اجتماعی زندگی کے دائرے میں جبر کا مخالف ہے اور وہ تمام انسانوں کو عقیدے کی آزادی دیتا ہے۔ مسلمانوں نے ہندوستان پر ایک ہزار سال حکومت کی اور کسی ہندو کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا۔ مسلمانوں نے اسپین پر چھ سو سال حکومت کی اور کسی عیسائی کو جبر کرکے مسلمان نہیں کیا۔ چنانچہ جو لوگ قائداعظم کی اس تقریر کو سیکولر یا لبرل معنی دینے کی کوشش کرتے ہیں وہ اسلام کے ساتھ شدید زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں، اور قائداعظم کے ساتھ بھی انصاف نہیں کرتے۔ اہم بات یہ ہے کہ قائداعظم کی ایسی درجنوں تقریریں موجود ہیں جن میں انہوں نے اسلام کے تناظر میں دو قومی نظریے کی تشریح کی ہے۔ مثلاً ایک تقریر میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان تو اُسی روز بن گیا تھا جس دن پہلے مسلمان نے برصغیر میں قدم رکھا۔ ایک اور تقریر میں انہوں نے اسلامی اور ہندو تہذیب کا موازنہ کرتے ہوئے لوٹے تک کی مثال دی ہے اور کہا ہے کہ مسلمانوں کے لوٹے میں ٹینٹو ہوتا ہے اور ہندوئوں کے لوٹے میں ٹینٹو نہیں ہوتا۔ لیکن اسلام اور پاکستان کے باہمی تعلق کو چار ٹھوس شہادتوں کی روشنی میں دیکھا اور بیان کیا جاسکتا ہے۔
اس سلسلے کی سب سے اہم شہادت خود دو قومی نظریہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دو قومی نظریے کی بنیاد جغرافیے پر نہیں تھی‘ اقتصادیات پر نہیں تھی… دو قومی نظریے کی بنیاد صرف اسلام پر تھی۔ مسلمانوں کی تہذیب الگ تھی تو اسی بنیاد پر۔ مسلمانوں کی تاریخ جدا تھی تو اسی وجہ سے۔ مسلمانوں کے ہیروز انفرادیت کے حامل تھے تو اسی حوالے سے۔
بعض لوگ تحریک ِپاکستان کے ’’جمہوری‘‘ ہونے کا حوالہ دیتے ہیں تو یہ بھی غلط ہے۔ مسلمان جمہوریت کے اصول کو مان لیتے تو پاکستان کے قیام کا مطالبہ ہی نہیں ابھرتا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو تحریک ِپاکستان کے مخصوص حالات میں جمہوریت مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا خوف تھی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو تحریک ِپاکستان کو اس کی مقبولیت کی وجہ سے جمہوری نہیں ’’عوامی‘‘ کہنا چاہیے۔ ایسی عوامی تحریک جس کی جڑیں اسلام اور اس کی تہذیب و تاریخ میں پیوست تھیں۔ اقبال نے کہا ہے:
بازو ترا اسلام کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے
تحریک ِپاکستان اور دو قومی نظریہ اقبال کے اس شعر کی عملی تفسیر تھے۔
برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا یہ پہلو بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ ان کی تاریخ میں جتنی بڑی تحریکیں چلی ہیں وہ اپنی نہاد میں مذہبی تھیں۔ ٹیپو اگرچہ سلطان تھا مگر اس کی شخصیت میں مجاہد کا جلال و جمال تھا۔ اس نے انگریزوں کے خلاف تن تنہا جس طرح دادِ شجاعت دی وہ مذہبی جوش و جذبے اور مذہبی شعور کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی۔
1857ء کی جنگ ِآزادی کا غالب رنگ بھی مذہبی تھا۔ اس کی قیادت بیشتر جگہوں پر جہاد سے متاثر افراد کے ہاتھوں میں تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس جدوجہد میں ہندو بھی شریک ہوئے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ میں ہندوئوں کی شرکت علامتی ہے۔ یہ جدوجہد اوّل و آخر مسلمانوں کی جدوجہد تھی۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ جنگ ِآزادی کے اختتام پر انگریزوں کے انتقام کا نشانہ صرف مسلمان بنے، یا یہ کہ انگریزوں کے انتقام کا نشانہ بننے والوں کی عظیم اکثریت مسلمان تھی۔ سوال یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا اصل اور غالب رنگ اگر مذہبی تھا تو تحریک ِپاکستان اس رنگ سے کیسے بے نیاز ہوسکتی تھی؟
دنیا میں سیکولرازم اور لبرل ازم کی بھی ایک تاریخ ہے۔ دنیا میں جہاں بھی سیکولر فکر ابھری ہے، مذہب کو رد کرکے ابھری ہے اور برصغیر کے مسلمانوں میں ایسا سانحہ کبھی وقوع پذیر نہیں ہوا۔ چنانچہ تحریک ِپاکستان اور پاکستان کے قائدین کو سیکولر اور لبرل رنگ میں بیان یا Paint کیا ہی نہیں جاسکتا۔ برصغیر کے مسلمانوں میں سیکولرازم اور لبرل ازم کی کوئی فکری بنیاد اور فکری تاریخ ہی نہیں ہے۔
شائستہ اکرام اللہ سہروردی نے اپنی کتاب ’’پردے سے پارلیمنٹ تک‘‘ میں کئی اہم باتیں لکھی ہیں، مثلاً انہوں نے ایک بات یہ لکھی ہے کہ ان کا خاندان انگریزوں سے قریبی رابطے میں اور انگریزوں کی تہذیب کے زیراثر تھا۔ اس کے باوجود جب انہیں انگریزی اسکول میں داخل کرایا گیا تو ان کے خاندان والوں نے اس کی سخت مخالفت کی۔ شائستہ اکرام اللہ نے ایک بات یہ لکھی ہے کہ وہ اگرچہ کیمبرج سے تعلیم حاصل کرکے آئی تھیں مگر ان کی شادی سو فیصد والدین کی طے کردہ تھی اور ان کے ذہن میں پسند کی شادی کا تصور تک نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ ایسے قدامت پسند معاشرے میں کوئی ایسی تحریک چل ہی کیسے سکتی تھی جس کی بنیاد مذہب پر نہ ہو؟
قیام پاکستان کے بعد مسلم کش فسادات میں مسلمانوں کا جس بڑے پیمانے پر قتل عام ہوا اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس قتل عام میں شہید ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ایک کروڑ کے لگ بھگ لوگ ایسے تھے جنہوں نے گھربار چھوڑ کر پاکستان کے لیے ہجرت کی۔ عام طور پر اتنے بڑے واقعات کے گہرے نفسیاتی اور جذباتی اثرات ہوتے ہیں اور قومیں کئی کئی دہائیوں تک معمول کے مطابق زندگی بسر نہیں کرپاتیں یا ’’نارمل‘‘ نہیں ہوپاتیں۔ لیکن چونکہ پاکستان کی پشت پر اصل قوت اسلام کی تھی اس لیے پاکستانی قوم نے مذہب کی قوت کے ذریعے اتنے بڑے بڑے واقعات کو بھی جذب کرلیا اور پاکستانی معاشرہ دیکھتے ہی دیکھتے نارمل ہوگیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: برصغیر کے مسلمانوں مسلمانوں کی پاکستان کے انہوں نے کی تاریخ کی بنیاد یہ ہے کہ ہی نہیں ہے اور

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات