پاکستان اقوام متحدہ کے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ بورڈ کے 53 ویں اجلاس کا صدر منتخب
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
نیو یا ر ک(ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی برادری نے ایک بار پھر پاکستان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر دیا، پاکستان کو ایک اور بڑا اعزاز مل گیا، پاکستان کو اقوام متحدہ کے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ بورڈ کے 53 ویں اجلاس کا صدر منتخب کر لیا گیا، پاکستان کے مستقل مندوب کامران اختر نے آج سے نئی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، پاکستان کو یہ اہم موقع پہلی مرتبہ میسر آیا ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک اور بڑا اعزاز پاکستان کے حصے میں آیا ہے، عالمی برداری کے اعتماد کے باعث پاکستان کو اقوام متحدہ کے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ بورڈ کے 53 ویں اجلاس کا صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب کامران اختر نے آج سے نئی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، پاکستان کو یہ موقع پہلی مرتبہ میسر آیا ہے۔
سفارتی زرائع کا کہنا ہے کہ ویانا میں موجود دیگر عالمی اداروں کی طرح پاکستان یونیڈو میں ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے، جب کہ رواں برس پاکستان یونیڈو کے ساتھ کنٹری پارٹنرشپ پروگرام کے تحت متعدد منصوبے شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ جون 2025 میں پاکستان کو طالبان پر عائد پابندیوں کے نفاذ کی نگرانی کرنے والی اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی کمیٹی کا چیئرمین اور اقوام متحدہ کی انسداد دہشتگردی کمیٹی کا نائب چیئرمین مقرر کر دیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفارتی مشن کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جو قرارداد 1988 (2011) کے تحت طالبان پر عائد پابندیوں کے نفاذ کی نگرانی کرتی ہے۔
مزید برآں، پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر رسمی ورکنگ گروپ برائے دستاویزات (آئی ڈبلیو جی) اور حال ہی میں قائم ہونے والے غیر رسمی ورکنگ گروپ برائے پابندیوں کا شریک چیئرمین بھی مقرر کیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے نیویارک کے پہلے مسلمان میئر زہران ممدانی کی فنڈنگ روکنے کی دھمکی دے دی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ پاکستان کو پاکستان کے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔