نیو یا ر ک(ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی برادری نے ایک بار پھر پاکستان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر دیا، پاکستان کو ایک اور بڑا اعزاز مل گیا، پاکستان کو اقوام متحدہ کے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ بورڈ کے 53 ویں اجلاس کا صدر منتخب کر لیا گیا، پاکستان کے مستقل مندوب کامران اختر نے آج سے نئی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، پاکستان کو یہ اہم موقع پہلی مرتبہ میسر آیا ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک اور بڑا اعزاز پاکستان کے حصے میں آیا ہے، عالمی برداری کے اعتماد کے باعث پاکستان کو اقوام متحدہ کے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ بورڈ کے 53 ویں اجلاس کا صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب کامران اختر نے آج سے نئی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، پاکستان کو یہ موقع پہلی مرتبہ میسر آیا ہے۔
سفارتی زرائع کا کہنا ہے کہ ویانا میں موجود دیگر عالمی اداروں کی طرح پاکستان یونیڈو میں ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے، جب کہ رواں برس پاکستان یونیڈو کے ساتھ کنٹری پارٹنرشپ پروگرام کے تحت متعدد منصوبے شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ جون 2025 میں پاکستان کو طالبان پر عائد پابندیوں کے نفاذ کی نگرانی کرنے والی اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی کمیٹی کا چیئرمین اور اقوام متحدہ کی انسداد دہشتگردی کمیٹی کا نائب چیئرمین مقرر کر دیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفارتی مشن کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جو قرارداد 1988 (2011) کے تحت طالبان پر عائد پابندیوں کے نفاذ کی نگرانی کرتی ہے۔
مزید برآں، پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر رسمی ورکنگ گروپ برائے دستاویزات (آئی ڈبلیو جی) اور حال ہی میں قائم ہونے والے غیر رسمی ورکنگ گروپ برائے پابندیوں کا شریک چیئرمین بھی مقرر کیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے نیویارک کے پہلے مسلمان میئر زہران ممدانی کی فنڈنگ روکنے کی دھمکی دے دی

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ پاکستان کو پاکستان کے

پڑھیں:

امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد

واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت