ہندوستان کی خارجہ اور سفارتی پالیسی ناکام ہی نہیں، تباہ ہوچکی ہیں، بھارتی دفاعی تجزیہ کار کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
معروف بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی کا کہنا ہے کہ گزشتہ 11 برس میں بھارت کی خارجہ و دفاعی پالیسیاں ناکام ہی نہیں، مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہیں۔
بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراون ساہنی نے نریندر مودی حکومت کی گزشتہ 11 سالہ دفاعی و خارجہ پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پالیسیاں نہ صرف ناکام ہو چکی ہیں بلکہ مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔ ان کے مطابق، اس زوال میں بڑا کردار ملک کے بعض مرکزی دھارے کے میڈیا اداروں کا بھی ہے، جن میں ریپبلک اور این ڈی ٹی وی جیسے چینلز شامل ہیں۔
I can explain how India’s defence & foreign policies have not failed but collapsed in last 11 years.
A big contribution in this is of the safronised, illiterate, stupid & aggrandizing mainline media with channels like Republic & NDTV in the lead. These fellows are the real anti…
— Pravin Sawhney (@PravinSawhney) June 29, 2025
بھارتی دفاعی تجزیہ کار نے الزام عائد کیا کہ یہ میڈیا ادارے، جنہوں نے زعفرانی نظریات کے زیرِ اثر کام کرنا شروع کیا، آج قوم کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔ یہ افراد ہی دراصل حقیقی قوم دشمن ہیں، یہ قوم کی زندگی میں بہتری لانے کے بجائے اس کے زوال کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔
میڈیا پر عوامی شعور بگاڑنے کا الزامپراوین ساہنی کے مطابق، میڈیا کو حکومت کی نگرانی کے بجائے ایک تعمیری نقاد کا کردار ادا کرنا چاہیے تھا، لیکن افسوس کہ اس نے غیر تنقیدی اور چاپلوسانہ صحافت کے ذریعے قوم کو غلط معلومات اور جھوٹے فخر میں مبتلا کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے اگر یہ بتادیا کہ پاکستان نے کتنے جہاز گرائے تو بھارتی حکومت میرے پیچھے پڑجائے گی، بھارتی تجزیہ کار
قوم سے محبت کا اظہاراپنی پوسٹ میں انہوں نے واضح کیا کہ میں نہ پاکستان کا ایجنٹ ہوں، نہ چین کا، اور نہ ہی کسی دشمن ملک کا۔ میں ایک سچا بھارتی شہری ہوں، جو چاہتا ہے کہ میری قوم ترقی کرے، سوچے، اور سچ کا سامنا کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی دفاعی تجزیہ کار
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔