نون لیگ ووٹ کو عزت دو والے اپنے بیانیے پر ڈٹ جائے تو ساتھ چلنے کو تیار ہوں. شاہد خاقان عباسی
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 جون ۔2025 )عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ( ن )اگر ووٹ کو عزت دو والے اپنے بیانیے پر ڈٹ جائے تو ساتھ چلنے کو تیار ہوں،حکومت کو مولانا فضل الرحمان کی بات سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میرا اختلاف کسی عہدے یا شخصیت پر نہیں ،مسلم لیگ ن ووٹ کو عزت دو کے بیانیے پر قائم تھی اور اگر وہ اپنے بیانیے پر دوبارہ سے قائم ہو جائے تو پارٹی کے ساتھ چلنے کو تیار ہوں.
(جاری ہے)
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہونی چاہیے سابق وزیر اعظم کا چوہدری نثار سے اختلافات کو مسترد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میرا ان سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں رہا تاہم، اختلافات سیاسی جماعتوں میں ہوتے رہتے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس دوتہائی اکثریت ہے ، اسمبلی کی مدت تاحیات کر سکتے ہیں، پاکستان میں آئین ہے اور ہم نے اس کے مطابق ہی چلنا ہے اور اگر نظام درست نہیں ہے تو ہمیں اس کو تبدیل کرنا چاہیے جبکہ ہائبرڈ نظام اگر آئین کے مطابق نہیں تو آئین کوبدل دیں. 26ویں ترمیم کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 26 ویں ترمیم نے آئین کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام(جے یو آئی ) کے پاس اسٹریٹ پاور ہے جو حکومت کو مفلوج کرسکتی ہے اس لیے مولانا فضل الرحمان کی بات سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے شاہد خاقان عباسی بیانیے پر نے کہا
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔