محرم الحرام کی آمد کے موقع پر را ایجنٹوں کی گرفتاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی اور پنجاب سے ’را‘ کے 10 سہولت کار گرفتار، حملوں کی منصوبہ بندی بھی بے نقاب کی گئی۔ کراچی سے بھارتی ایجنسی را کے 4 دہشت گردوں کی گرفتاری کے بعد سی ٹی ڈی پنجاب نے بھی مختلف اضلاع سے را کے 6 سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا۔ پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی کے مطابق سی ٹی ڈی نے چھاپے میں ٹوبہ ٹیک سنگھ سے دھماکا خیز مواد اور ڈیٹو نیٹرز برآمد کرلیے، بہاولپور میں دبئی سے فنڈنگ کرنے والا ’’را‘‘ کا سہولت کار گرفتار کرلیا، بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس سے براہ راست IEDs حاصل کرنے والے 2 افراد بہاولنگر سے گرفتار کرلیے گئے۔ سی ٹی ڈی نے بہاولپور میں مسجد اور ریلوے اسٹیشن پر حملے کی منصوبہ بندی بے نقاب کر دی۔ ’’را‘‘ افسران میجر رویندرا راٹھور اور انسپکٹر سنگھ کی آڈیو انٹرسیپٹس حاصل کرلی گئیں۔ دہشت گردوں سے IEDs، حفاظتی فیوز اور خفیہ نقشے برآمد ہوئے۔ بھارت سے ملنے والی ہدایات میں ٹارگٹ کلنگ اور حساس مقامات پر حملے شامل تھے۔ ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب شہزادہ سلطان نے بتایا کہ انڈین دہشت گرد ایجنسی ’’را‘‘ کے گرفتار 6 سہولت کار پاکستانی شہری ہیں، یہ سہولت کار بھارتی ایجنسی را کے لیے کام کرتے تھے، را اپنی فنڈنگ دبئی سے کرپٹو کرنسی اور برانچ لیس کے ذریعے بھیجتی ہے۔
کراچی سے حساس ادارے اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس نے خفیہ اطلاع پر ملیر قائد آباد کے علاقے میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کرنے والے 4 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتار مرکزی ملزم 20 مرتبہ اور ایک ملزم 6 مرتبہ بھارت جا چکا ہے، گرفتار ملزمان بی ایس ایف کے کیمپ نمبر 59 میں ایک بھارتی کرنل سے رابطے میں تھے، گرفتار ملزمان شہر کی حساس تنصیبات کی تصاویر جیو ٹیگ لوکیشن اور ویڈیو بھارتی خفیہ ایجنسی کو فراہم کر رہے تھے۔ محرم الحرام کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس ماہ میں دہشت گردی کے خدشات موجود ہوتے ہیں۔ را نے پچھلے کئی سال سے جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ پاکستان کے انٹیلی جنس ادارے را، موساد اور دیگر دشمن خفیہ ایجنسیوں کے مذموم منصوبے ناکام بنانے کی خاطر متحرک ہیں۔ ضروری یہ ہے کہ پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کے مابین جامع و مربوط نیٹ ورک بنایا جائے تاکہ وہ زیادہ موثر انداز میں دشمن خفیہ ایجنسیوں کی چالوں، سازشوں اور حیلوں کا مقابلہ کر سکیں۔ محرم کے دوران، خاص طور پر یوم عاشورہ (10 محرم) کے موقع پر، لوگوں کو امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے محتاط رہنا چاہیے۔
عالمی منظرنامہ کے پیش نظر زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ تفرقہ پھیلانے اور امن و امان کے حالات کو سبوتاژ کرنے والے عناصر پر کڑی نگاہ رکھی جائے۔ علما، ذاکرین اپنے اجتماعی کردار سے محرم سال 2025 کو پرامن اور محفوظ بنائیں۔ پاکستان علماء کونسل نے گزشتہ 10برسوں میں ملک میں امن و سلامتی کے لیے بین المسالک رواداری و ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالموں کو فروغ دیا۔ امن و امان کی صورتحال یقینی بنانے کے لیے حکومت کو اپنی رٹ قائم اور ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ پاکستان میں کلبھوشن کی پلاننگ ابھی بھی موجود ہے، دشمن سمجھتا ہے کہ پاکستان کو فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعے کمزور کیا جاسکتا ہے لہٰذا ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ محرم الحرام کے ایام میں مجالس اور جلوس زیادہ ہوتے ہیں جن میں تخریب کاری کرنا دشمن کے لیے قدرے آسان ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ ایام حساس ہیں۔ محرم الحرام میں دشمن فساد پھیلا کر اسے شیعہ سنی فسادات کا نام دینا چاہتا ہے حالانکہ شیعہ سنی کا آپس میں کوئی تنازع نہیں ہے۔ ’’را‘‘ کے ایجنٹ بلوچستان، کراچی و دیگر جگہ موجود ہیں اور ایسا حکومتی سطح پر بھی کہا جاچکا ہے لہٰذا انتظامیہ اور ہمیں بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ محرم میں کوئی بھی تخریب کاری کا واقعہ نہ ہو کیونکہ ان ایام میں ہونے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کے اثرات خطرناک ہوتے ہیں۔ اسلام ہمیں امن سے رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ امام حسینؓ نے حق اور باطل کو واضح کرنے کے لیے اپنی اور اپنے خاندان کی قربانی دے کر رہتی دنیا تک مثال قائم کی۔ محرم الحرام کا مہینہ امن، بھائی چارے اور باہمی اتفاق و اتحاد کا درس دیتا ہے، اس مہینے کے تقدس کے پیش نظر ہمیں فرقہ واریت، مذہبی وسیاسی منافرت کے بجائے مذہبی ہم آہنگی، سیاسی رواداری اور اخوت و محبت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ محرم الحرام میں ہمیں انتظامیہ کے ساتھ بھی ہر قسم کا تعاون کرنا چاہیے، مشکوک افراد پر کڑی نگاہ رکھ کر فوری انتظامیہ کو آگاہ کریں۔ محرم الحرام میں سب پر لازم ہے کہ وہ بھائی چارے کی فضا کو قائم رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
حب الوطنی کے تقاضے ہم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان اور اسلام کے لیے اپنے اپنے جذبات اور مسلکی نعروں و مفادات کی قربانی دیں، فرقہ واریت یا فساد پھیلانے والوں کا خاتمہ اور تخریب کاروں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خفیہ ایجنسی محرم الحرام کی ضرورت ہے سہولت کار سی ٹی ڈی رہنے کی کے لیے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔