ایلون مسک کی ٹرمپ انتظامیہ پر کڑی تنقید، ریپبلکن پارٹی کو ’پورکی پگ پارٹی‘ قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
معروف کاروباری شخصیت اور ٹیسلا و ایکس کے مالک ایلون مسک نے ٹرمپ انتظامیہ اور ریپبلکن پارٹی کو متنازع کانگریشنل بجٹ بل پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس بل کے نتیجے میں امریکا کا قومی قرضہ 5 کھرب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ایران میں موجود ’دوستوں‘ کے لیے ایلون مسک سے مددمانگ لی
ایلون مسک نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں ریپبلکن پارٹی کو طنزیہ انداز میں ’پورکی پگ پارٹی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صاف ظاہر ہے ہم ایک یک جماعتی نظام میں جی رہے ہیں، جہاں عوام کی نہیں بلکہ اشرافیہ کی نمائندگی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بل غیر ضروری اور بے تحاشا اخراجات پر مبنی ہے، جس سے صرف چند مخصوص طبقات کو فائدہ ہوگا، جبکہ اس کا بوجھ عام امریکی عوام پر پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’ٹرمپ سے متعلق اپنی پوسٹ پر افسوس ہے‘، ایلون مسک نے ہار مان لی
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس اقدام سے نہ صرف قومی قرضہ بڑھے گا بلکہ افراطِ زر، سود کی شرح اور مالیاتی بحران بھی شدت اختیار کرسکتا ہے۔
امریکا میں نئی سیاسی جماعت کا قیام ضروریایلون مسک نے اس موقع پر ایک نئی عوامی سیاسی جماعت کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایک ایسی جماعت وجود میں لائی جائے جو مالیاتی شفافیت، عوامی مفادات اور قومی خودمختاری کو ترجیح دے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ اور ایلون مسک کی دوستی ختم، امریکی صدر کی سخت نتائج کی دھمکی
فی الوقت ریپبلکن قیادت کی جانب سے ایلون مسک کے بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’پورکی پگ پارٹی‘ we news امریکا ایلون مسک تنقید ڈونلڈ ٹرمپ قرضہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایلون مسک ڈونلڈ ٹرمپ ایلون مسک نے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔