معروف کاروباری شخصیت اور ٹیسلا و ایکس کے مالک ایلون مسک نے ٹرمپ انتظامیہ اور ریپبلکن پارٹی کو متنازع کانگریشنل بجٹ بل پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس بل کے نتیجے میں امریکا کا قومی قرضہ 5 کھرب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ایران میں موجود ’دوستوں‘ کے لیے ایلون مسک سے مددمانگ لی

ایلون مسک نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں ریپبلکن پارٹی کو طنزیہ انداز میں ’پورکی پگ پارٹی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صاف ظاہر ہے ہم ایک یک جماعتی نظام میں جی رہے ہیں، جہاں عوام کی نہیں بلکہ اشرافیہ کی نمائندگی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بل غیر ضروری اور بے تحاشا اخراجات پر مبنی ہے، جس سے صرف چند مخصوص طبقات کو فائدہ ہوگا، جبکہ اس کا بوجھ عام امریکی عوام پر پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  ’ٹرمپ سے متعلق اپنی پوسٹ پر افسوس ہے‘، ایلون مسک نے ہار مان لی

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس اقدام سے نہ صرف قومی قرضہ بڑھے گا بلکہ افراطِ زر، سود کی شرح اور مالیاتی بحران بھی شدت اختیار کرسکتا ہے۔

امریکا میں نئی سیاسی جماعت کا قیام ضروری

ایلون مسک نے اس موقع پر ایک نئی عوامی سیاسی جماعت کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایک ایسی جماعت وجود میں لائی جائے جو مالیاتی شفافیت، عوامی مفادات اور قومی خودمختاری کو ترجیح دے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ اور ایلون مسک کی دوستی ختم، امریکی صدر کی سخت نتائج کی دھمکی

فی الوقت ریپبلکن قیادت کی جانب سے ایلون مسک کے بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

’پورکی پگ پارٹی‘ we news امریکا ایلون مسک تنقید ڈونلڈ ٹرمپ قرضہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایلون مسک ڈونلڈ ٹرمپ ایلون مسک نے

پڑھیں:

5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا

پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔

پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ 

حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف